🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. الاعتكاف
اعتکاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1620
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محبوب الرَّمْلي بمكة، حدثنا عبد الله بن محمد بن نصر الرَّمْلي، حدثنا محمد بن أبي عمر العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن أبي سُهيل بن مالك، عن طاووس، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال:"ليس على المُعتكِفِ صيامٌ إلَّا أن يَجعَلَه على نفسِه" (1) .
هذا حديثٌ صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولفُقهاء أهل الكوفة في ضِدِّ
هذا حديثان أَذكُرُهما، وإن كانا لا يقاومان هذا الخبر في عدالة الرُّواة: الحديث الأول:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: معتکف پر روزہ لازم نہیں ہے الّا یہ کہ وہ خود اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس کے مقابلے میں فقہاء اہل کوفہ سے دو حدیثیں مروی ہیں، ان کا بھی میں ذکر کروں گا اگرچہ وہ دونوں حدیثیں راویوں کی عدالت کے حوالے سے اس کے برابر کی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1620]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1620 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل عبد العزيز بن محمد - وهو الدراوردي - إلّا أنَّ الصواب فيه أنه موقوف، وهم فيه عبد الله بن محمد بن نصر الرملي فرفعه، كما قال البيهقي وغيره. محمد بن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العدني، وأبو سهيل بن مالك: هو عمُّ الإمام مالك بن أنس، واسمه نافع الأصبحي.
⚖️ درجۂ حدیث: عبدالعزیز بن محمد الدراوردی کی وجہ سے سند قوی ہے، 🔍 علّت / فنی نکتہ: لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ موقوف ہے؛ عبداللہ بن محمد الرملي نے اسے مرفوع بیان کرنے میں وہم کیا ہے، جیسا کہ بیہقی وغیرہ نے کہا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابوسہیل بن مالک، امام مالک کے چچا ہیں جن کا نام نافع اصبہی ہے۔
وأخرجه البيهقي 4/ 318 - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 5/ 489 - 490 - عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. قال البيهقي: تفرد به عبد الله بن محمد بن نصر الرملي هذا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (4/ 318) اور ابن عساکر نے امام حاکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بیہقی کہتے ہیں کہ اس (مرفوع روایت) میں عبداللہ بن محمد الرملي منفرد ہیں۔
وأخرجه الدارقطني (2355) - ومن طريقه ابن الجوزي في "التحقيق" (1187) - عن محمد بن إسحاق السوسي، عن عبد الله بن محمد بن نصر، به. قال الدارقطني: رفعه هذا الشيخ، وغيره لا يرفعه، وتعقبه ابن الجوزي بقوله: السوسي ثقة، ونقل عن الخطيب قوله: دخل بغداد وحدث أحاديث مستقيمة. قلنا: الوهم ليس من السوسي، لأنه متابع على رفعه، وإنما الوهم ممن هو فوقه، والله أعلم.
⚠️ سندی اختلاف: دارقطنی (2355) نے اسے محمد بن اسحاق السوسی کے واسطے سے نقل کیا اور کہا کہ صرف اسی شیخ نے اسے مرفوع کیا ہے جبکہ دوسرے اسے مرفوع نہیں کرتے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: ابن الجوزی نے تعاقب کیا کہ سوسی ثقہ ہے، تاہم وہم ان سے اوپر کے کسی راوی سے ہوا ہے۔
وأخرج الدارمي (164)، والبيهقي 4/ 319 من طريق عمرو بن زرارة - وقرن الدارمي بعمرو بن زرارة: إبراهيم بن موسى - والطحاوي في "أحكام القرآن" (1072)، وابن حزم في "المحلى" 3/ 414 من طريق أبي بكر الحميدي، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" 10/ 350 عن عبد الملك بن أبي الحواري، أربعتهم عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن أبي سهيل قال: كان على امرأتي اعتكاف ثلاثة أيام في المسجد الحرام، فسألت عمر بن عبد العزيز وعنده ابن شهاب، قال: قلت: عليها صيام؟ قال ابن شهاب: لا يكون اعتكاف إلّا بصيام، فقال له عمر بن عبد العزيز: عن النبي ﷺ؟ قال: لا، قال: فعن أبي بكر؟ قال: لا، قال: فعن عمر؟ قال: لا، قال: فعن عثمان؟ قال: لا، قال عمر - يعني ابن عبد العزيز -: ما أرى عليها صيامًا. فخرجتُ فوجدت طاووسًا وعطاء بن أبي رباح، فسألتهما، فقال طاووس: كان ابن عباس لا يرى عليها صيامًا إلّا أن تجعله على نفسها، وقال عطاء: ذلك رأيي - وفي بعض المصادر: ذلك رأيٌ -. قال البيهقي: هذا هو الصحيح موقوف، رفعه وهمٌ.
🧾 تفصیلِ روایت: دارمی، بیہقی، طحاوی اور ابن حزم نے الدراوردی کے طریق سے ابوسہیل سے روایت کیا ہے کہ: میری بیوی پر مسجد حرام میں تین دن کے اعتکاف کی نذر تھی، میں نے عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا (وہاں زہری بھی تھے) کہ کیا اس پر روزہ ہے؟ ابن شہاب (زہری) نے کہا: "روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا"۔ عمر بن عبدالعزیز نے پوچھا: "کیا یہ نبی ﷺ سے مروی ہے؟" انہوں نے کہا: "نہیں"۔ انہوں نے پوچھا: "حضرت ابوبکر، عمر یا عثمان سے؟" انہوں نے کہا: "نہیں"۔ تب عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: "میرا نہیں خیال کہ اس پر روزہ (لازم) ہے"۔ پھر میں نے طاؤس اور عطا سے پوچھا، طاؤس نے کہا کہ ابن عباس ؓ روزہ ضروری نہیں سمجھتے تھے جب تک کہ وہ خود اپنے اوپر لازم نہ کر لے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: بیہقی فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے، اس کا مرفوع ہونا وہم ہے۔
وانظر كلام ابن التركماني في ذلك في "الجوهر النقي" المطبوع في حاشية "السنن الكبرى" للبيهقي 4/ 319.
📖 حوالہ / مصدر: اس بارے میں ابن الترکمانی کا کلام بیہقی کی السنن الکبریٰ 4/ 319 کے حاشیے میں ملاحظہ فرمائیں۔