🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. الاعتكاف
اعتکاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1622
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حدثنا أحمد بن عُمَير الدمشقي، حدثنا محمد بن هاشم، حدثنا سُوَيد بن عبد العزيز، حدثنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"لا اعتكافَ إلَّا بصيامٍ" (2) . لم يحتجَّ الشيخان بسفيان بن حسين (1) وعبد الله بن بُدَيل.
اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سفیان بن حسین اور عبداللہ بن یزید کی روایات نقل نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1622]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1622 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا، سويد بن عبد العزيز متفق على ضعفه، بل قال أحمد: متروك الحديث، وقال البخاري: في حديثه نظر لا يحتمل. محمد بن هاشم: هو ابن سعيد البعلبكي، والزهري: هو محمد بن مسلم بن شهاب، وعروة: هو ابن الزُّبير. ¤ ¤ وأخرجه البيهقي 4/ 317 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال بإثره: هذا وهم من سفيان بن حسين أو من سويد بن عبد العزيز، وسويد بن عبد العزيز الدمشقي ضعيف بمرة، لا يقبل منه ما تفرد به.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند سخت ضعیف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: سوید بن عبدالعزیز کے ضعف پر اتفاق ہے، امام احمد نے انہیں متروک کہا ہے۔ بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ سفیان بن حسین یا سوید کا وہم ہے، اور سوید کا تفرد قبول نہیں کیا جاتا۔
وأخرجه الدارقطني (2356) - ومن طريقه ابن الجوزي في "التحقيق" (1188) - عن أحمد بن عمير بن يوسف بالإجازة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2356) اور ابن الجوزی نے احمد بن عمیر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وخالف سويدَ بنَ عبد العزيز محمدُ بنُ يزيد الواسطي - فيما قاله الدارقطني في "العلل" (3927) - فرواه عن سفيان بن حسين، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة من قولها موقوفًا. قال الدارقطني: وقول محمد بن يزيد أصح.
⚠️ سندی اختلاف: دارقطنی نے "العلل" میں کہا ہے کہ محمد بن یزید الواسطی نے سوید کی مخالفت کی اور اسے حضرت عائشہ ؓ کا اپنا قول (موقوف) قرار دیا ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
وأخرج أبو داود (2473) من طريق عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة أنها قالت: السنة على المعتكف أن لا يعود مريضًا، ولا يشهد جنازة، ولا يمس امرأة، ولا يباشرها، ولا يخرج لحاجة إلّا لما لا بد منه، ولا اعتكاف إلّا بصوم، ولا اعتكاف إلّا في مسجد جامع. وهذا إسناده حسن إلّا أنَّ أهل العلم اختلفوا في قولها: "ولا اعتكاف إلّا بصوم … " إلى آخره هل هو مرفوع أو مدرج في الحديث من قول عائشة؟ رجح الوقف الدارقطني في "العلل"، ونسب البيهقي 4/ 321 ذلك إلى كثير من الحفاظ، وخالفهم ابن التركماني وغيره فرجحوا الرفع، انظر تعليقنا في ذلك على "السنن" لأبي داود.
⚖️ درجۂ ہدایت: ابو داود (2473) نے اسے عبدالرحمن بن اسحاق عن زہری کی سند سے روایت کیا، جس کی سند حسن ہے، 🔍 علّت / فنی نکتہ: لیکن اہل علم میں اختلاف ہے کہ "روزے کے بغیر اعتکاف نہیں" کے الفاظ مرفوع ہیں یا حضرت عائشہ ؓ کا قول؟ دارقطنی اور بیہقی نے "وقف" (یعنی صحابیہ کا قول ہونے) کو ترجیح دی ہے۔
قلنا: ويؤيد وقفَه ما أخرجه البيهقي 4/ 317 عن أبي عبد الله الحاكم وأبي سعيد بن أبي عمرو، عن أبي العباس محمد بن يعقوب، عن يحيى بن أبي طالب، عن عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، عن سعيد بن أبي عروة، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت: لا اعتكاف إلّا بصوم. هكذا موقوفًا، وهذا إسناد قوي.
🧩 متابعات و شواہد: اس کے موقوف ہونے کی تائید بیہقی (4/ 317) کی اس روایت سے ہوتی ہے جس کی سند ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہ ہے کہ انہوں نے فرمایا: "روزے کے بغیر اعتکاف نہیں"، یہ سند قوی ہے۔
(1) تعقب المصنّف ﵀ ابنُ حجر في "إتحاف المهرة" 17/ 198، فقال: إنما اتفقا على الإعراض عن روايته عن الزهري، وليس هو علّة هذا الخبر، بل علّته سويد.
🔍 علّت / فنی نکتہ: حافظ ابن حجر نے مصنف (حاکم) پر تعاقب کرتے ہوئے کہا کہ علت سفیان نہیں بلکہ سوید بن عبدالعزیز ہے۔
قلنا: وسفيان كما قال المصنف لم يحتجَّا به، وإنما ذكره البخاري في المتابعات، وروى له مسلم في مقدمة "صحيحه" فقط.
👤 راوی پر جرح: سفیان بن حسین سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا بلکہ امام بخاری نے انہیں صرف متابعات میں ذکر کیا اور مسلم نے صرف مقدمہ میں۔