🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. وفد الله ثلاثة الغازي والحاج والمعتمر
اللہ کے مہمان تین ہیں: جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مُنْقِذ بن عبد الله الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مَخرَمةً بن بُكَير، عن أبيه قال: سمعت سُهيل بن أبي صالح يقول: سمعت أبي يقول: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"وَفْدُ اللهِ ثلاثة: الغازي، والحاجُّ والمُعتمِر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: راہِ خدا کے مسافر تین آدمی ہیں: (1) غازی (2) حاجی (3) عمرہ کرنے والا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1628]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1628 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح من قول كعب الأحبار، وهذا الإسناد تفرد به بكير بن عبد الله بن الأشج عن سهيل عن أبي صالح عن أبي هريرة، وتفرد به عن بكير ابنه مخرمة بن بكير، كما قال الدارقطني في "الأفراد" (15)، ثم قال: ولا نعلم حدث به عن مخرمة غير عبد الله بن وهب، وقد خالف بكيرًا جمعٌ من الثقات وهم: روح بن القاسم، وسليمان بن بلال، وعبد العزيز بن المختار، وعبد العزيز الدراوردي، وعبد العزيز بن أبي حازم، ووهيب بن خالد، فرووه عن سهيل بن أبي صالح، عن ¤ ¤أبيه، عن مرداس بن عبد الرحمن الجندعي، عن كعب الأحبار قوله. وقال في "العلل" (1913): وهو الصحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: کعب الاحبار کے قول کے طور پر یہ روایت صحیح ہے، لیکن حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس کی نسبت کی سند میں بکیر بن عبد اللہ بن الاشج منفرد ہیں اور ان سے ان کے بیٹے مخرمہ بن بکیر منفرد ہیں، جیسا کہ دارقطنی نے "الأفراد" (15) میں کہا ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: دارقطنی کے بقول ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے کعب الاحبار کا قول (موقوف) قرار دیا ہے، اور "العلل" (1913) میں اسی کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔
وحديث أبي هريرة هذا أخرجه النسائي (3591) و (4314)، وابن حبان (3692) من طريقين عن عبد الله بن وهب، بهذ الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو نسائی (3591، 4314) اور ابن حبان (3692) نے عبد اللہ بن وہب کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن ماجه (2892) من طريق صالح بن عبد الله بن صالح، عن يعقوب بن يحيى بن عباد، عن أبي صالح السمان، عن أبي هريرة رفعه. وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن عبد الله وجهالة يعقوب بن يحيى.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن ماجہ (2892) کی سند صالح بن عبد اللہ کے ضعف اور یعقوب بن یحییٰ کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔
أما أثر كعب الأحبار فقد أخرجه الدارقطني في "العلل" 10/ 126 (1913) من طريق روح بن القاسم ووهيب بن خالد وسليمان بن بلال، والبيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 262، وفي "شعب الإيمان" (3807) من طريق وهيب بن خالد، ثلاثتهم عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن مرداس الجندعي، عن كعب قوله.
📖 حوالہ / مصدر: کعب الاحبار کے اثر کو دارقطنی (10/ 126)، بیہقی (السنن الکبریٰ 5/ 262) اور "شعب الإيمان" (3807) نے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (912) من طريق عبد العزيز بن أبي حازم، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن السلولي - وهو عبد الله بن ضمرة - عن كعب قوله.
📖 حوالہ / مصدر: فاکہی نے "أخبار مكة" (912) میں اسے عبدالعزیز بن ابی حازم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة (12795 - عوامة) من طريق منصور، عن مجاهد، عن عبد الله بن ضمرة السلولي، عن كعب قوله.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ (12795 - عوامہ) نے اسے منصور عن مجاہد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق (8803)، وسعيد بن منصور (2351) من طريق الليث بن أبي سليم، عن مجاهد، عن كعب قوله.
📖 حوالہ / مصدر: عبدالرزاق (8803) اور سعید بن منصور (2351) نے اسے لیث بن ابی سلیم عن مجاہد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر "العلل" لابن أبي حاتم (1007).
📖 حوالہ / مصدر: اس بارے میں ابن ابی حاتم کی "العلل" (1007) ملاحظہ فرمائیں۔
وفي الباب عن جابر، وابن عمرو وابن عمر، وأنس، ذكرناها في تعليقنا على "سنن ابن ماجه" (2892)، وأسانيدها كلها لا يفرح بها.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں جابر، ابن عمرو، ابن عمر اور انس ؓ سے روایات مروی ہیں جن کا ذکر ہم نے "سنن ابن ماجہ" (2892) کے حاشیے میں کیا ہے، تاہم ان کی سندیں قوی نہیں ہیں۔