🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. وفد الله ثلاثة الغازي والحاج والمعتمر
اللہ کے مہمان تین ہیں: جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرُو، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسين بن محمد المَرْوَرُّذي، حدثنا شَرِيك، عن منصور، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ اغفِرْ للحاجِّ ولمن استَغفَرَ له الحاجُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِلْحَاجِّ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَہُ الْحَاجُ اے اللہ! حاجی کی بھی مغفرت فرما اور جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے اس کی بھی مغفرت فرما۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1629]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1629 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، تفرد به شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وفي حفظه شيء، وقد قال فيه إبراهيم بن سعيد الجوهري - فيما نقله عنه ابن عدي في "الكامل" 4/ 11 بعد أن أخرج الحديث من طريقه -: ما أظن شريكًا إلا ذهب وهمُه إلى حديث منصور عن أبي حازم عن أبي هريرة: ¤ ¤ "من حج البيت ولم يرفث ولم يفسق … ".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ شریک بن عبد اللہ اس کی روایت میں منفرد ہیں اور ان کے حافظے میں کچھ کمزوری تھی۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: ابراہیم بن سعید الجوہری کے مطابق شریک کو یہاں وہم ہوا ہے اور ان کا خیال دوسری مشہور حدیث "جس نے حج کیا اور بے حیائی نہ کی..." کی طرف چلا گیا ہے۔
منصور: هو ابن المعتمر، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي.
👤 راوی پر جرح: منصور سے مراد ابن المعتمر اور ابو حازم سے مراد سلمان الاشجعی ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 261، وفي "الشعب" (3817) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے "السنن الکبریٰ" اور "شعب الإيمان" (3817) میں اسے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (9726)، وابن خزيمة (2516)، وابن عدي في "الكامل" 4/ 11 من طريق إبراهيم إبراهيم بن سعيد الجوهري، عن الحسين بن محمد به. وذكر البزار وابن عدي أنه لا يعرف إلا من رواية شريك عن منصور.
📖 حوالہ / مصدر: بزار (9726)، ابن خزیمہ (2516) اور ابن عدی نے اسے ابراہیم الجوہری کے طریق سے روایت کیا اور کہا کہ یہ صرف شریک عن منصور کے واسطے سے پہچانی جاتی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (8594)، و "الصغير" (1089) من طريق علي بن شبرمة الحارثي، عن شريك بن عبد الله، به. وذكر أنه لم يروه عن منصور إلا شريك.
📖 حوالہ / مصدر: طبرانی نے "الأوسط" اور "الصغیر" میں صراحت کی ہے کہ اسے منصور سے سوائے شریک کے کسی نے روایت نہیں کیا۔
ومما يرجح وهم شريك في هذا الإسناد، أنه نفسه قد روى هذا الحديث عن جابر الجعفي، عن مجاهد، عن النبي ﷺ مرسلًا، أخرجه عن شريكٍ ابن أبي شيبة (12801 - عوامة). وجابر الجعفي هذا ضعيف.
⚠️ سندی اختلاف: شریک کے وہم کی ایک دلیل یہ ہے کہ انہوں نے خود اس حدیث کو جابر الجعفی عن مجاہد سے مرسل بھی روایت کیا ہے، جسے ابن ابی شیبہ (12801) نے نقل کیا ہے۔ جابر الجعفی ضعیف راوی ہیں۔
وتابع شريكًا في روايته عن جابر عن مجاهد مرسلًا، شيبانُ النحوي فيما أخرجه قوام السنة الأصبهاني في "الترغيب والترهيب" (1065) من طريقه عن جابر الجعفي، به.
🧩 متابعات و شواہد: شیبان النحوی نے بھی جابر الجعفی کے واسطے سے مجاہد سے اسے مرسل ہی روایت کیا ہے۔