🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. نهى عن الشرب من فى السقاء
مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1645
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا موسى بن إسماعيل والحجاج بن مِنْهال، قال: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قَتادة، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن الشُّرب من فِي السِّقاء، وعن الجَلَّالة، والمُجَثَّمة (1) .
هذا حديث صحيح قد احتجَّ البخاري بعكرمة، واحتج مسلم بحماد بن سلمة، ثم لم يخرجاه (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا ہے۔ اور جلالہ (وہ جانور جو حلال و حرام چیزیں کھاتا ہے) اور مجثمہ (وہ جانور یا پرندہ جس کو باندھ دیا گیا ہو پھر تیر وغیرہ سے اس کو ہلاک کر دیا گیا ہو، اس کے کھانے) سے منع کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکسر سرکی اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حماد بن سلمہ کی روایات نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1645]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1645 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وسيأتي الحديث من طريق الأسود بن عامر عن حماد بن سلمة برقم (2528).
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث آگے اسود بن عامر عن حماد بن سلمہ کے طریق سے رقم (2528) پر آئے گی۔
ومن طريق سعيد بن أبي عروبة عن قتادة برقم (2278)، وذكرنا هناك شواهد الحديث وغريبه ومعناه. ومختصرًا بالنهي عن الشرب من في السقاء من طريق خالد الحذاء عن عكرمة برقم (7391)، وزاد هناك النهي أن يتنفس في الإناء.
📖 حوالہ / مصدر: اسے سعید بن ابی عروبہ عن قتادہ کے طریق سے رقم (2278) پر ذکر کیا گیا ہے، جہاں شواہد اور معانی بیان ہوئے ہیں۔ مشکیزے کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت خالد الحذاء کی روایت (رقم 7391) میں ہے، جہاں برتن میں سانس لینے کی بھی ممانعت ہے۔
وبرقم (7292) من طريق سلمة بن وهرام، عن عكرمة عن ابن عباس، ولفظه: نهى رسول الله ﷺ عن اختناث الأسقية … وفيه قصة.
📖 حوالہ / مصدر: رقم (7292) پر سلمہ بن وہرام کی روایت میں مشکیزوں کو موڑ کر پینے کی ممانعت ایک قصے کے ساتھ مذکور ہے۔
(1) قد أخرج البخاري ذكر النهي عن الشرب من في السقاء من طريق خالد الحذاء عن عكرمة عن ابن عباس، وسيأتي تخريجه في موضعه.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت خالد الحذاء عن عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے روایت کی ہے، جو اپنے مقام پر آئے گی۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (3719) عن موسى بن إسماعيل وحده، بهذا الإسناد. لكن لم يطلق النهي عن الجلّالة، وإنما قيده بالنهي عن ركوبها.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (3719) نے موسیٰ بن اسماعیل سے اکیلے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر وہاں ممانعت کو صرف سواری کے ساتھ مقید کیا گیا ہے، مطلق ممانعت نہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1989) و 4 / (2671) و 5 / (2949)، وأبو داود (3786)، والترمذي (1825)، والنسائي (4522) و (6837) من طريق هشام الدستوائي، عن قتادة، به. ووقع في رواية هشام هذه تقييد النهي بالنهي عن لبن الجلالة. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1989 وغیرہ)، ابو داود (3786)، ترمذی (1825) اور نسائی نے ہشام الدستوائی عن قتادہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ ہشام کی روایت میں ممانعت کا تعلق جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کے دودھ سے ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔
وقد ورد في غير حديث ابن عباس النهي عن لحوم الجلالة، وسنفصل ذلك فيما سيأتي برقم (2278) إن شاء الله.
🧾 تفصیلِ روایت: ابن عباس ؓ کے علاوہ دیگر احادیث میں جلالہ کے گوشت کی ممانعت بھی آئی ہے، جس کی تفصیل آگے رقم (2278) پر ان شاء اللہ آئے گی۔