🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. آداب الركوب
سواری کے آداب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1644
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَضْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ على كلِّ ذُرْوةٍ بعيرٍ شيطانًا، فامتَهِنُوهُنَّ بِالرُّكوب، فإنَّما يَحمِلُ اللهُ ﷿" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے، ان کو سواری میں استعمال کیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1644]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1644 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل ابن أبي الزناد، واسمه: عبد الرحمن بن عبد الله بن ذكوان. ¤ ¤ الأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن ابی الزناد (عبدالرحمن بن عبداللہ) کی وجہ سے سند حسن ہے۔ 👤 راوی پر جرح: الاعرج سے مراد عبدالرحمن بن ہرمز ہیں۔
وأخرجه ابن خزيمة (2547) عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2547) نے یونس بن عبدالاعلیٰ عن عبداللہ بن وہب کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي لاسٍ المتقدم برقم (1641).
🧩 متابعات و شواہد: اس کی شاہد ابو لاس ؓ کی گزشتہ حدیث (رقم 1641) ہے۔
قوله: "فامتهنوهنَّ بالركوب "قال المناوي في "فيض القدير": لتلين وتذل، وقد يكون بها نار من جهة الخلقة يطفئها الركوب، لأن المؤمن إذا ركب حمد الله وسبحه، فكأنه قال: سكنوا هذا الكِبر بالركوب المقرون بذكر الله المنفر للشيطان.
📌 اہم نکتہ: آپ ﷺ کا قول "فامتهنوهنَّ بالركوب" (انہیں سواری کے ذریعے استعمال/رام کرو): علامہ مناوی "فیض القدیر" میں کہتے ہیں کہ اس کا مقصد جانور کو مطیع بنانا ہے، اور جانور کی جبلت میں جو تندی ہوتی ہے وہ سواری اور اللہ کے ذکر سے دور ہو جاتی ہے۔ گویا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کبر کو ذکرِ الٰہی سے ملی ہوئی سواری کے ذریعے پرسکون کرو جو شیطان کو بھگاتی ہے۔
وقوله: "فإنما يحمل الله ﷿" قال: أي: لا يعجب الإنسان بحملها، فإنَّ الحامل هو الله.
📌 اہم نکتہ: آپ ﷺ کا قول "فإنما يحمل الله ﷿" (بیشک اللہ ہی اٹھاتا ہے): یعنی انسان کو جانور کے اٹھانے پر غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی اٹھانے والا اللہ ہی ہے۔