🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. الدعاء فى السفر إذا أدرك الليل
سفر میں رات ہو جانے پر پڑھی جانے والی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1654
أخبرنا إبراهيم بن فِراس الفقيه بمكة، حدثنا بَكْر بن سَهْل الدِّمياطي، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُرَيح بن عُبيد الحَضْرميّ، أنه سمع الزُّبير بن الوليد يحدّث عن عبد الله بن عمر بن الخطّاب قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا غزا أو سافَرَ فأدرَكَه الليلُ قال:"يا أرضُ، ربِّي وربُّكِ الله، أعوذُ بالله من شَرَّ كلِّ أَسدٍ، وشرِّ كلِّ أسوَدَ، وحيّةٍ وعقربٍ، ومن ساكِنِي البلد، ومن شرِّ والدٍ وما وَلَده" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یا کسی سفر میں ہوتے اور رات ہو جاتی تو آپ فرماتے اے زمین! تیرا اور میرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، ہر شیر اور کالے کے شر سے اور سانپ اور بچھو اور اس شہر کے باسیوں کے شر سے اور پیدا کرنے والے اور پیدا ہونے والے کے شر سے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1654]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1654 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين، الزبير بن الوليد - وهو الشامي - وإن تفرد بالرواية عنه شريح ابن عبيد الحضرمي، فإنه تابعي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم يجرحه أحد، وحسَّن حديثه هذا الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" كما في "الفتوحات الربانية" لابن علان 5/ 164، وبكر بن سهل الدمياطي وإن كان ضعيفًا قد توبع. أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج، وصفوان بن عمرو: هو السَّكسكي.
⚖️ درجۂ حدیث: زبیر بن ولید الشامی کی وجہ سے یہ سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ حافظ ابن حجر نے "نتائج الافکار" میں اسے حسن کہا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو المغیرہ سے مراد عبدالقدوس بن الحجاج اور صفوان بن عمرو السکسکی ہیں۔
وأخرجه أحمد 10 / (6161) و 19/ (12249)، والنسائي (7813) من طريق أبي المغيرة، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه أبو داود (2603)، والنسائي (10322) من طريق بقية بن الوليد، عن صفوان بن عمرو، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (10 / 6161)، نسائی اور ابو داود (2603) نے بقیہ بن ولید اور ابو المغیرہ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي الحديث من طريق محمد بن عوف الطائي عن أبي المغيرة برقم (2518).
📝 توضیح: یہ حدیث آگے محمد بن عوف الطائی عن ابی المغیرہ کی سند سے رقم (2518) پر آئے گی۔
والأَسْوَد: هو الحية العظيمة التي فيها سواد، وهو أخبث الحيات، وقد خصه بالذِّكر مع ذِكْر الحية لعظم شره. قاله السندي في حاشيته على "المسند".
📌 اہم نکتہ: "الأَسْوَد": اس سے مراد بڑا کالا سانپ ہے جو انتہائی زہریلا ہوتا ہے۔ کلام میں اس کا ذکر اس کے شر کی شدت کی وجہ سے خاص طور پر کیا گیا ہے۔
وساكنو البلد: قال الخطابي: هم الجن الذين هم سكان الأرض، فالبلد من الأرض ما كان مأوى للحيوان، وإن لم يكن فيه بناء ومنزل.
📌 اہم نکتہ: "ساكنو البلد": خطابی کے نزدیک اس سے مراد وہ جنات ہیں جو زمین پر رہتے ہیں، کیونکہ "بلد" ہر اس جگہ کو کہتے ہیں جو جانداروں کا ٹھکانہ ہو، چاہے وہاں عمارت ہو یا نہ ہو۔
وقال: ويحتمل أنَّ المراد بالوالد: إبليس، وما ولد الشياطين. والله تعالى أعلم.
📌 اہم نکتہ: "الوالد": اس سے مراد ابلیس اور اس کی اولاد (شیاطین) بھی ہو سکتی ہے۔