المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. إن من السنة أن يغتسل إذا أراد أن يحرم وإذا أراد أن يدخل مكة
یہ سنت ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے اور مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1655
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أحمد بن أبي الطَّيِّب قال: قُرئ على أبي بكر بن عيَّاش وأنا أَنظُر في هذا الكتاب فأقرَّ به: عن يعقوب بن عطاء، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: اغتَسَلَ رسولُ الله ﷺ ثم لَبِس ثيابَه، فلما أتى ذا الحُلَيفة صلَّى ركعتين، ثم قَعَدَ على بعيرِه، فلمَّا استَوى به على البَيْداء أحرَمَ بالحجّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ يعقوب بن عطاء بن أبي رباح ممَّن جَمَعَ أئمةُ الإسم حديثه، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ يعقوب بن عطاء بن أبي رباح ممَّن جَمَعَ أئمةُ الإسم حديثه، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر کپڑے پہنے پھر جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھ گئے پھر جب آپ مقامِ بیداء میں پہنچ گئے تو حج کا احرام باندھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یعقوب بن عطا بن ابی رباح کی احادیث اَئمہ اسلام جمع کرتے ہیں۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد بھی ہے جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1655]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1655 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء: وهو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: یعقوب بن عطاء کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر اپنے شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے۔
وأخرجه البيهقي 5/ 33 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (5/ 33) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2432) - ومن طريقه ابن الجوزي في "التحقيق" 2/ 120 - 121 - عن محمد بن مخلد، عن محمد بن إسحاق الصغاني، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2432) نے محمد بن اسحاق الصغانی کی سند سے روایت کیا ہے۔
ورُويت بعض عباراته من وجه آخر صحيح عن ابن عباس، فقد أخرج أحمد 4/ (2296) و (2528) و 5/ (3149) و (3206) و (3244) و (3525)، ومسلم (1243)، وأبو داود (1752) و (1753)، وابن ماجه (3098)، والنسائي (3740) و (3748) و (3758) من طريق أبي حسان مسلم بن عبد الله الأعرج، عن ابن عباس قال: صلى رسول الله ﷺ الظهر بذي الحليفة، ثم دعا بناقته فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن، وسَلَتَ الدمَ، وقلدها نعلين، ثم ركب راحلته، فلما استوت به على البيداء أهلَّ بالحج.
🧩 متابعات و شواہد: اس کے کچھ حصے صحیح سند سے ابن عباس ؓ سے مروی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں ظہر پڑھی، پھر اپنی اونٹنی کے کوہان پر نشان لگایا (اشعار کیا)، خون صاف کیا، اسے جوتیاں پہنائیں اور جب بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پکارا۔
وانظر ما سيأتي برقم (1675).
📝 توضیح: اس کے متعلق مزید تفصیل آگے رقم (1675) پر آئے گی۔
وللحديث مفرقًا شواهد ذكرناها في "مسند أحمد" 4/ (2358). ¤ ¤ والبيداء: هو طرف ذي الحليفة.
📌 اہم نکتہ: "البيداء": یہ ذوالحلیفہ (مدینہ کی میقات) کا کنارہ ہے۔