المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. من أراد الحج فليتعجل
جو حج کا ارادہ کرے وہ جلدی کرے۔
حدیث نمبر: 1663
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبر أبو المُثنّى، حدثنا مُسدّد، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازم، عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن أبي صفوان، عن ابن عباس، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن أرادَ الحجَّ فليتَعجَّل" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وأبو صفوان هذا سمَّاه غيره: مِهْران مولى لقريش، ولا يُعرَف بالجَرح.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وأبو صفوان هذا سمَّاه غيره: مِهْران مولى لقريش، ولا يُعرَف بالجَرح.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو، وہ (حج کرنے میں) جلدی کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ ابوصفوان جو ہیں، حسن بن عمرو کے علاوہ کئی محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے ان کا نام ” مہران “ بیان کیا ہے جو کہ قریش کے غلام تھے اور ان کے بارے میں کوئی جرح بھی ثابت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1663]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1663 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث حسن، وهذا إسناد محتمل للتحسين، أبو صفوان - وهو الكوفي، واسمه مهران - وإن تفرد بالرواية عنه الحسن بن عمرو الفقيمي فهو تابعي وذكره ابن حبان في "الثقات"، وروى له حديثه هذا أبو داود في "سننه"، ولا يُعرف بجرح كما ذكر المصنف بإثر هذا الحديث، ثم إنه قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابوصافوان (مہران) اگرچہ اکیلے ہیں مگر ابن حبان نے انہیں "ثقات" میں ذکر کیا ہے اور ابوداؤد نے ان سے روایت لی ہے، لہٰذا یہ حسن الحدیث ہیں اور ان کی تائید بھی موجود ہے۔
أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري.
👤 راوی پر جرح: ابوبکر بن اسحاق (احمد) اور ابومثنیٰ (معاذ بن مثنیٰ) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1732) عن مسدد، بهذا الإسناد. وقد أُقحم في مطبوعات "سنن أبي داود" الأعمش بين أبي معاوية والحسن بن عمرو، وكذلك جاء في طبعتنا من "السنن" بناءً على وروده في بعض النسخ الخطية لـ "السنن" ومنها نسخة بخط الحافظ ابن حجر، وهو خطأ من بعض النساخ يقينًا، إذ لم يرد في النسخ القديمة كنسخة ابن داسه وغيرها، ولا في النسخة التي اعتمدها ابن القطان الفاسي، حيث أورد إسناد أبي داود في "بيان الوهم والإيهام" 4/ 273 دون ذكر الأعمش، ولا في نسخة الحافظ المزي التي اعتمدها في "تحفة الأشراف"، وقد روى الحديثَ غيرُ واحد عن أبي معاوية، لم يذكر واحد منهم الأعمش، فالصواب حذفُه، والله تعالى أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1732) نے مسدد کی سند سے روایت کیا ہے۔ ⚠️ کچھ مطبوعہ نسخوں میں "الاعمش" کا نام غلطی سے شامل ہو گیا ہے، جو کہ قدیم اور معتبر نسخوں (جیسے ابن داسہ کا نسخہ) میں موجود نہیں ہے، لہٰذا اسے حذف کرنا ہی درست ہے۔
وأخرجه أحمد 3 / (1973) عن أبي معاوية الضرير، به. وانظر تخريج طرقه عن أبي معاوية هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 3 / (1973) نے ابومعاوية الضرير کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 3/ (1974) عن عبد الرحمن بن الحسن المحاربي، عن الحسن بن عمرو، به. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 3 / (1833) و (1834) و 5 / (2973) و (3340)، وابن ماجه (2883) من طريق أبي إسرائيل إسماعيل بن خليفة العبسي، عن فضيل بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس أو عن الفضل بن عباس أو عن أحدهما عن صاحبه عن النبي ﷺ. وزاد فيه: "فإنه قد تضل الضالة، ويمرض المريض، وتكون الحاجة". ووقع عند ابن ماجه وأحد مواضع أحمد: عن ابن عباس عن الفضل، وفي الموضع الأخير لأحمد: عن ابن عباس والفضل. وهذا الاضطراب الحطُّ فيه على أبي إسرائيل، فهو ضعيف بسبب سوء حفظه، والله أعلم.
⚠️ سندی اختلاف: اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے ابواسرائیل اسماعیل بن خلیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے، جس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے: "کیونکہ سواری گم ہو سکتی ہے، بندہ بیمار ہو سکتا ہے یا کوئی حاجت پیش آ سکتی ہے"۔ ابواسرائیل کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے اس سند میں اضطراب ہے۔
وأخرج أحمد 5 / (2867) من طريق أبي إسرائيل هذا، عن فضيل، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس (بدون شك) عن النبي ﷺ قال: "تعجلوا إلى الحج - يعني الفريضة فإنَّ أحدكم لا يدري ما يعرض له".
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے ابن عباس ؓ سے (بغیر شک کے) روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "حج (فریضہ) کی طرف جلدی کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہیں کیا عذر پیش آ جائے"۔