المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. من أراد الحج فليتعجل
جو حج کا ارادہ کرے وہ جلدی کرے۔
حدیث نمبر: 1664
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا حُصَين بن عمر الأحْمَسي، حدثنا الأعمش، عن إبراهيم التَّيمي، عن الحارث بن سُوَيد قال: سمعت عليًّا يقول:"حُجُّوا قبل أن لا تَحُجُّوا، فكأني أنظُرُ إلى حَبَشيٍّ أصمَعَ أَفدَعَ، بيده مِعوَلٌ يَهْدِمُها حَجَرًا حَجَرًا"، فقلت له: شيءٌ تقولُه برأيك، أو سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: لا والذي فَلَقَ الحبَّة وبَرَأَ النَّسمة، ولكني سمعتُه من نبيكم ﷺ (1) .
سیدنا حارث بن سوید فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حج کرو۔ اس دن سے پہلے کہ تم حج نہ کر سکو۔ گویا کہ میں اس ٹیڑھی پنڈلیوں والے، سر کے ساتھ چپکے ہوئے چھوٹے چھوٹے کانوں والے حبشی کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ میں ہتھوڑے لئے، اس (کعبۃ اللہ) کی ایک ایک اینٹ کر کے اکھاڑ رہا ہے (یعنی ایک وقت آئے گا کہ اس کو گرا دیا جائے گا)۔ میں نے ان سے کہا: یہ بات، تم اپنی رائے سے کہہ رہے ہو؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے دانہ گندم کو پھاڑا اور جس نے سانس کو جاری کیا، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1664]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1664 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف، تفرد به حصين بن عمر الأحمسي، وهو متروك متَّهم بالكذب، قال الذهبي في "تلخيصه": حصين متهم ويحيى الحماني ليس بعمدة، انتهى علي بن عبد العزيز: هو أبو الحسن البغوي، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وإبراهيم التيمي: هو ابن يزيد بن شريك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند تباہ (تالف) ہے۔ 👤 راوی پر جرح: حصین بن عمر الاحمسی متروک اور "متہم بالکذب" (جھوٹ کا ملزم) ہے۔ امام ذہبی کے نزدیک یحییٰ الحمانی بھی قابلِ اعتماد نہیں۔
وأخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (755)، والحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (351 - بغية الباحث) - ومن طريقه المستغفري في "دلائل النبوة" (295) - وأبو نعيم في "الحلية" 131/ 4، والبيهقي 4/ 340 من طريق يحيى بن عبد الحميد الحماني، بهذا الإسناد. قال أبو نعيم: هذا حديث غريب من حديث الحارث بن إبراهيم، لم يروه عن الأعمش إلا حصين بن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے فاکہی، حارث بن ابی اسامہ، ابونعیم اور بیہقی نے یحییٰ الحمانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابونعیم کے مطابق اسے حصین بن عمر کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 2/ 396 من طريق جبارة، عن حصين بن عمر، به. وجبارة هذا: هو ابن المغلس، وهو متروك أيضًا. ¤ ¤ وله شاهد لا يفرح به من حديث أبي هريرة، أخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (809)، والعقيلي في "الضعفاء" (1698)، والدراقطني في "سننه" (2795)، وأبو نعيم في "أخبار أصبهان" 2/ 77، والبيهقي 4/ 341، وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (926) من طريق محمد بن أبي محمد، عن أبيه، عن أبي هريرة رفعه: "حجوا قبل أن لا تحجوا" قالوا: وما شأن الحج يا رسول الله؟ قال: "تقعد أعرابها على أذناب شِعابها، ولا يصل إلى الحج أحد"، قال العقيلي: محمد بن أبي محمد مجهول النقل، ولا يعرف هذا الحديث إلّا به، ولا يتابع عليه، ولا يصح في هذا شيء.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن عدی نے اسے جبارہ عن حصین کی سند سے روایت کیا ہے، اور جبارہ بھی متروک راوی ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس کا ایک شاہد ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے: "حج کر لو اس سے پہلے کہ تم حج نہ کر سکو... (کیونکہ دیہاتی راستوں پر بیٹھ جائیں گے اور کوئی حج تک نہ پہنچ سکے گا)"۔ عقیلی کے بقول اس کا راوی مجہول ہے اور یہ روایت ثابت نہیں ہے۔