المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
71. من حلف بشيء دون الله فقد أشرك
جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا
حدیث نمبر: 169
أخبرناه أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عن أبيه والأعمش ومنصور، عن سعد بن عُبيدة، ابن عمر قال: كان عمرُ يحلِفُ: وأَبي، فنهاه النبيُّ ﷺ، فقال:"مَن حَلَفَ بشيءٍ من دون الله، فقد أشرك"، وقال الآخرُ:"فهو شركٌ" (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ”میرے باپ کی قسم“ کہہ کر قسم کھایا کرتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”جس نے اللہ کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھائی، اس نے شرک کیا“، یا فرمایا: ”وہ شرک ہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 169]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 169 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات إلّا أنَّ فيه علَّةً وهي الانقطاع بين سعد بن عبيدة وابن عمر، فإنَّ سعدًا لم يسمع هذا الحديث من ابن عمر، بينهما فيه راوٍ اسمه محمد الكندي كما بيَّنه منصورٌ -وهو ابن المعتمر- في رواية غير سفيان الثوري عنه كما عند أحمد 9/ (5375) و (5593)، ولعلَّ هذا أصحُّ من صنيع الأعمش وغيره حيث اختصروه فأوهموا أنه من مسموعات سعد بن عبيدة عن ابن عمر، ومحمد الكندي هذا لا يعرف، وانظر تتمة هذا البيان في التعليق على "مسند أحمد" 8/ (4904) - حيث رواه عن عبد الرزاق بهذا الإسناد - والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں بنیادی علت سعد بن عبیدہ اور ابن عمر کے درمیان "انقطاع" ہے۔ منصور بن معتمر کی روایت کے مطابق ان کے درمیان "محمد الکندی" نامی ایک راوی واسطہ ہے، جو کہ مجہول (نا معلوم) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام اعمش وغیرہ نے اسے مختصراً بیان کر کے یہ وہم پیدا کر دیا کہ سعد نے براہِ راست ابن عمر سے سنا ہے، حالانکہ درست بات وہی ہے جو منصور نے بیان کی۔ واللہ اعلم۔