المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
71. من حلف بشيء دون الله فقد أشرك
جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا
حدیث نمبر: 170
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة، حدثنا جرير، عن الحسن بن عُبيد الله، عن سعد بن عُبيدة، عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال:"مَن حَلَفَ بغير الله فقد كَفَرَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وإنما أودعتُه كتاب الإيمان للفظ الشِّرك فيه، وفي حديث مُصعب بن المِقدام عن إسرائيل:"فقد كفر" (3) . فأما الشيخان فإنما أخرجاه من حديث سالم ونافع وعبد الله بن دينار عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قال لعمر:"إنَّ الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم" (4) فقط، وهذا غيرُ ذاك (5) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وإنما أودعتُه كتاب الإيمان للفظ الشِّرك فيه، وفي حديث مُصعب بن المِقدام عن إسرائيل:"فقد كفر" (3) . فأما الشيخان فإنما أخرجاه من حديث سالم ونافع وعبد الله بن دينار عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قال لعمر:"إنَّ الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم" (4) فقط، وهذا غيرُ ذاك (5) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، میں نے اسے کلمہ ’شرک‘ کی وجہ سے کتاب الایمان میں جگہ دی ہے۔ شیخین نے صرف ممانعت والا حصہ روایت کیا ہے، جبکہ یہ روایت اس سے الگ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 170]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، میں نے اسے کلمہ ’شرک‘ کی وجہ سے کتاب الایمان میں جگہ دی ہے۔ شیخین نے صرف ممانعت والا حصہ روایت کیا ہے، جبکہ یہ روایت اس سے الگ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 170]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 170 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات كسابقه. جرير: هو ابن عبد الحميد، وقد سلف من طريقه برقم (45).
⚖️ درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح اس کے راوی بھی ثقہ ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: جریر سے مراد "جریر بن عبدالحمید" ہیں، جن کے طریق سے یہ روایت پہلے نمبر (45) پر گزر چکی ہے۔
(3) لم نقف علي هذه الرواية مسندةً فيما بين أيدينا من المصادر، وانظر ما سبق برقم (168) من طريق عبيد الله بن موسى عن إسرائيل، وقد سلف برقم (45) بلفظ: "فقد كفر" في حديث الحسن بن عبيد الله النخعي عن سعد بن عبيدة.
📖 حوالہ / مصدر: ہمارے پاس موجود مصادر میں ہمیں یہ روایت اس سند کے ساتھ مسنداً نہیں ملی۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس موضوع پر نمبر (168) اور نمبر (45) ملاحظہ فرمائیں جہاں "فقد کفر" (پس اس نے کفر کیا) کے الفاظ مروی ہیں۔
(4) هو من حديث سالم -وهو ابن عبد الله بن عمر عند البخاري برقم (6647)، ومن حديث نافع - وهو مولى ابن عمر - عنده برقم (6108)، ومن حديث عبد الله بن دينار عنده برقم (3836)، وهو عند مسلم من حديث الثلاثة برقم (1646).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت صحیح بخاری میں سالم بن عبداللہ (6647)، نافع مولیٰ ابن عمر (6108) اور عبداللہ بن دینار (3836) کے طرق سے مروی ہے، جبکہ امام مسلم نے ان تینوں سے نمبر (1646) کے تحت اسے روایت کیا ہے۔
(5) بل هما واحد والقصة واحدة، إذ لا يُتصوّر في عمر ﵁ أن يكون سمع نهي النبي ﷺ عن الحلِفِ بالآباء، ثم يعود فيحلف بأبيه، وقد ثبت عنه في الحديث نفسه أنه قال - كما في حديث سالم-: والله ما حلفتُ بها منذ سمعت النبيَّ ﷺ ذاكرًا ولا آثرًا.
📌 اہم نکتہ: درحقیقت یہ ایک ہی قصہ اور ایک ہی واقعہ ہے؛ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے باپ دادا کی قسم کھانے کی ممانعت سنیں اور پھر دوبارہ ایسی قسم کھائیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: خود حضرت عمر سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "اللہ کی قسم! جب سے میں نے نبی ﷺ کو اس سے منع فرماتے سنا، میں نے کبھی ایسی قسم نہیں کھائی"۔