🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة
عرفہ کے دن سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ زیادہ بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
أخبرنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزةَ الغِفَاري، حدثنا خالد بن مَخْلَد القَطَواني. وأخبرني أبو سعيد عبد الرحمن بن أحمد المؤذِّن، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن مسلم، حدثنا خالد بن مَخْلَد، حدثنا علي بن مُسهِر (1) ، عن مَيسَرَةَ بن حبيب، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير قال: كنا مع ابن عباسٍ بعَرفةَ فقال لي: يا سعيد، ما لي لا أسمعُ الناسَ يُلَبُّون؟ فقلت: يخافون من معاويةَ، قال: فخرج ابنُ عباس من فُسطاطِه فقال: لبَّيكَ اللهمَّ لبَّيك، فإنهم قد تَرَكوا السُّنةَ من بُغض عليٍّ ﵁ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عرفات میں تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اے سردار! کیا بات ہے؟ آج لوگوں کے تلبیہ کہنے کی آواز سنائی نہیں دے رہی؟ میں نے جواب دیا: لوگ معاویہ سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ (اس لیے تلبیہ نہیں پڑھ رہے) آپ فرماتے ہیں: (یہ سن کر) ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے خیمے سے باہر آئے اور بلند آواز سے تلبیہ لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْک کہتے ہوئے فرمانے لگے: لوگوں نے علی کے بغض کی وجہ سے سنت کو چھوڑ رکھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1724]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1724 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ الخطية: علي بن مسهر، وهو خطأ صوابه: علي بن صالح، كما في "صحيح ابن خزيمة" (2830)، وقد رواه غير واحد أيضًا خالد بن مخلد، عن علي بن صالح، عن ميسرة بن حبيب، كما عند النسائي (3979)، والبيهقي 5/ 113. ولعلَّ منشأ هذا الخطأ من إحدى النسخ القديمة لـ "المستدرك" أو أنه سبق قلم من المصنِّف نفسه، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: خطی نسخوں میں یہاں "علی بن مسہر" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے، درست نام "علی بن صالح" ہے جیسا کہ "صحیح ابن خزیمہ" (2830) میں ہے۔ اسے خالد بن مخلد نے علی بن صالح عن ميسرہ بن حبیب کے واسطے سے روایت کیا ہے جیسا کہ نسائی (3979) اور بیہقی (5/113) میں ہے۔ 📝 توضیح: غالباً اس غلطی کی بنیاد "المستدرک" کے کسی قدیم نسخے کی خرابی ہے یا خود مصنف کا سبقِ قلم (لکھتے ہوئے قلم کی لغزش) ہے۔ واللہ اعلم۔
(2) خبر منكر، خالد بن مخلد القطواني حسن الحديث ما لم يخالف أو يأتي بما ينكر، فقد قال أبو داود: صدوق يتشيع، وقال ابن سعد: كان منكر الحديث في التشيع مفرطًا، وقال الجوزجاني: كان شتامًا معلنًا بسوء مذهبه، وقال صالح جزرة - فيما نقله عنه الحاكم في "تاريخ نيسابور" -: ثقة في الحديث إلّا أنه كان متهمًا بالغلوّ. ¤ ¤ قلنا: وهذا الخبر من تشيعه، وقد انفرد به، وإلّا فما علاقة ترك التلبية ببغض عليٍّ أو حبه؟! وخصوصًا أنَّ مسألة التلبية بعرفة مسألة اجتهادية فيها خلاف قديم بين الصحابة، وقد توسع في ذكر مذاهب الصحابة في ذلك الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 2/ 223 - 227، وابن عبد البر في "التمهيد" 13/ 75 وما بعدها.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "خبرِ منکر" (ناقابل قبول روایت) ہے۔ 👤 راوی پر جرح: خالد بن مخلد القطوانی اگرچہ "حسن الحدیث" ہیں جب تک کہ وہ مخالفت نہ کریں یا منکر روایت نہ لائیں، لیکن ابوداؤد نے انہیں "صدوق اور شیعہ" کہا، ابن سعد نے کہا کہ وہ تشیع میں مفرط اور منکر الحدیث تھے، جوزجانی نے انہیں اپنے (غلط) مسلک کی تشہیر کرنے والا اور گالی گلوچ کرنے والا قرار دیا۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: (محقق کہتے ہیں کہ) یہ روایت ان کے تشیع کا نتیجہ ہے جس میں وہ منفرد ہیں، ورنہ عرفہ کے دن تلبیہ ترک کرنے کا حضرت علیؓ کی محبت یا بغض سے کیا تعلق؟! خاص طور پر جبکہ عرفہ میں تلبیہ پکارنے کا مسئلہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے جس میں صحابہ کے درمیان قدیم اختلاف رہا ہے۔
وأخرجه النسائي (3979) عن أحمد بن عثمان بن حكيم الأودي، عن خالد بن مخلد، عن علي بن صالح، عن ميسرة بن حبيب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (3979) نے احمد بن عثمان الاودی کے طریق سے خالد بن مخلد عن علی بن صالح عن ميسرہ بن حبیب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔