🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. رمي الجمار ومقدار الحصى
جمرات کو کنکریاں مارنے اور کنکریوں کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1730
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُمَيل. وحدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا عبد الرحمن بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد القطّان. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو علي الحَنَفي وأبو عاصم النَّبيل، قالوا: حدثنا أيمن بن نابِلٍ قال: سمعتُ قُدامةَ بن عبد الله بن عمّار الكِلَابيَّ يقول: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحر على ناقةٍ صَهباءَ، لا ضَرْبَ ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا قدامہ بن عبداللہ، عمار کلابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صہباء اونٹنی پر شیطان کو کنکریاں مارتے دیکھا۔ اس میں نہ کسی کو مارا گیا نہ الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور نہ ہٹو بچو کا شور ہوا۔ (یہ تعریض ہے امراء کے لیے کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی نیا انداز نہ اپنا لیں)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1730]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1730 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل أيمن بن نابل. أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مخلد. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 24/ (15410) و (15411) و (15412) و (15413) و (15415)، وابن ماجه (3035)، والترمذي (903)، والنسائي (4053) من طرق عن أيمن بن نابل، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: ایمن بن نابل کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابن ماجہ (3035)، ترمذی (903) اور نسائی (4053) نے ایمن بن نابل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي برقم (8758).
🔁 تکرار: یہ روایت آگے نمبر (8758) پر دوبارہ آئے گی۔
قال السندي في حاشيته على مسند أحمد": قوله: "ولا إليكَ" اسم فعل بمعنى: ابتعِد وتنحَّ، أي: لم يكن ثَمَّ شيءٌ من هذه الأمور التي تُفعل الآن بين أيدي الأمراء، فهي محدَثة ومكروهة كسائر المحدَثات، وفيه بيان تواضعه ﷺ، أنه لم يكن على صفة الأمراء اليوم، والله تعالى أعلم.
📝 توضیح: علامہ سندھی کے مطابق "ولا إليكَ" کا مطلب ہے 'پرے ہٹ جاؤ'۔ یہ ان کاموں کی تردید ہے جو آج کل امراء کے سامنے (پروٹوکول کے لیے) کیے جاتے ہیں؛ یہ سب ناپسندیدہ بدعات ہیں، اور اس میں نبی ﷺ کی کمال تواضع کا بیان ہے۔