🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. رَمْيُ الْجِمَارِ وَمِقْدَارُ الْحَصَى
جمرات کو کنکریاں مارنے اور کنکریوں کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1729
أخبرنا جعفر بن محمد (2) بن نُصَير الخوّاص، حدثنا الحارث بن محمد التَّميمي، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا عَوف بن أبي جَميلة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا عَوف، عن زياد بن الحُصَين، حدثنا أبو العاليَة، قال: قال لي ابنُ عباس: قال لي رسولُ الله ﷺ غَداةَ العَقَبة:"هاتِ الْقُطْ لي (3) حَصَيَاتٍ من حَصَى الخَذْف"، فلمّا وُضِعنَ في يده قال:"بأمثال هؤلاءِ، بأمثال هؤلاء، وإياكم والغُلوَّ في الدِّين؛ فإنَّما هَلَكَ مَن كان قبلَكم بالغُلوِّ في الدِّين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس دن کنکریاں ماری جاتی ہیں، اس دن صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ادھر آؤ! کنکریاں جمع کر کے مجھے دو، جب وہ کنکریاں آپ کے ہاتھ میں رکھی گئیں تو آپ نے (متوسط سائز کی کنکریوں کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا: ان کنکریوں جیسی (کنکریاں مارنی چاہئیں) اور اپنے دین میں غلو سے بچو! کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1729]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1730
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُمَيل. وحدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا عبد الرحمن بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد القطّان. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو علي الحَنَفي وأبو عاصم النَّبيل، قالوا: حدثنا أيمن بن نابِلٍ قال: سمعتُ قُدامةَ بن عبد الله بن عمّار الكِلَابيَّ يقول: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحر على ناقةٍ صَهباءَ، لا ضَرْبَ ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا قدامہ بن عبداللہ، عمار کلابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صہباء اونٹنی پر شیطان کو کنکریاں مارتے دیکھا۔ اس میں نہ کسی کو مارا گیا نہ الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور نہ ہٹو بچو کا شور ہوا۔ (یہ تعریض ہے امراء کے لیے کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی نیا انداز نہ اپنا لیں)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1730]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1731
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنسٍ القُرَشي، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، حدثنا الحسن بن عُبيد الله، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن عباسٍ رفَعَه، قال:"لما أتى إبراهيمُ خليلُ الله المناسكَ عَرَضَ له الشيطانُ عند جَمْرةِ العَقَبة، فرماه بسَبعِ حَصَياتٍ حتى ساخَ في الأرض [ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثانية، فرماه بسَبْع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض، ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثالثة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض] (1) ". قال ابن عباس: الشيطانَ تَرجُمون، وملَّةَ أبيكم تتَّبعون (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً روایت کرتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام مناسک حج ادا کرنے لگے تو جمرہ عقبہ کے پاس شیطان آپ کے پاس آیا: (اور ورغلانے کی کوشش کرنے لگا) تو آپ علیہ السلام نے اس کو سات کنکریاں ماریں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر دوسرے جمرہ کے قریب وہ دوبارہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا، آپ علیہ السلام نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم (بھی عجیب لوگ ہو) شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہو اور اپنے باپ کی ملت کا انکار کرتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1731]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں