المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. شرب ماء زمزم من السقاية وفضيلة السقي
سقایا سے زمزم پینا اور پانی پلانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1766
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر قال: قُرئ على ابن وهبٍ قال: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن ويحيى بن عبد الله بن سالم، أنَّ عمرو بن أبي عمرٍو مولى المُطَّلب أخبرهما عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ قال:"لحمُ صيدِ البَرِّ لكم حلالٌ وأنتم حُرُم، ما لم تَصِيدُوه أو يُصادَ (1) لكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رُويَ عن مالك بن أنس وسليمانَ بن بلال عن عمرٍو متصلًا مسندًا: أما حديث مالك:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رُويَ عن مالك بن أنس وسليمانَ بن بلال عن عمرٍو متصلًا مسندًا: أما حديث مالك:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حالت احرام میں تمہارے لیے خشکی کے جانور کا گوشت حلال ہے جب تک کہ تم خود اس کا شکار نہ کرو یا وہ تمہارے لیے شکار نہیں کیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اسی طرح مالک بن انس اور سلیمان بن بلال نے عمرو سے متصل مسند روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1766]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1766 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا الرواية هنا "يصاد" وهو جائز على لغةٍ، أو على أن "أو" بمعنى: "إلَّا أنَّ" وحينئذٍ فلا إشكال.
🔍 فنی نکتہ: یہاں "يصاد" (شکار کیا جائے) کی روایت ایک لغت کے مطابق جائز ہے، یا یہاں "أو" کا مطلب "إلا أن" (مگر یہ کہ) کے معنی میں ہے، اس صورت میں کوئی اشکال نہیں۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو مولى المطلب، إن صحَّ سماع المطلب بن عبد الله من جابر، كما سلف بيانه برقم (1677).
⚖️ صحیح لغیرہ: یہ روایت صحیح لغیرہ ہے، اور عمرو مولیٰ المطلب کی وجہ سے سند "حسن" ہے؛ بشرطیکہ مطلب بن عبداللہ کا حضرت جابرؓ سے سماع ثابت ہو (جیسا کہ پیچھے نمبر 1677 پر گزرا)۔