🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. شرب ماء زمزم من السقاية وفضيلة السقي
سقایا سے زمزم پینا اور پانی پلانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1765
أخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرْقَندي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نَصْر الإمام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن خالدٍ الحذَّاء، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ جاء إلى السِّقاية فاستسقَى، فقال العباس: يا فضلُ، اذهب إلى أمِّك فأْتِ رسولَ الله ﷺ بشرابٍ من عندها، فقال:"اسقنِي"، فقال: يا رسولَ الله، إنَّهم يجعلون أيديَهم فيه، فقال:"اسقِني"، فشرب منه، ثم أتى زمزمَ وهم يَستَقُون ويعملون فيها، فقال:"اعمَلُوا فإنكم على عملٍ صالحٍ"، ثم قال:"لولا أن تُغلَبوا لنزلتُ حتى أَضَعَ الحَبْلَ على هذه"؛ يعني: عاتقَه، وأشار إلى عاتقِه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حوض کے پاس آئے اور پانی پینا چاہا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فضل! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لے کر آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں نے اس میں ہاتھ ڈالے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوض سے پانی پیا پھر آبِ زم زم پر تشریف لائے، اس وقت لوگ وہاں سے پانی پی رہے تھے اور اس میں کام بھی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کام کرتے رہو کیونکہ تم نیک کام کر رہے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے مغلوب ہونے کا خدشہ نہ ہوتا (اس طرح کہ یہاں پر لوگ کثرت سے آئیں اور عوام کی بھیڑ کی وجہ سے تم مغلوب ہو جاؤ) آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تو میں نیچے اتر کر رسی اس پر رکھ لیتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1765]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1765 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وخالد بن عبد الله: هو الواسطي، وخالد الحذاء: هو ابن مهران.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری، خالد بن عبداللہ الواسطی اور خالد الحذاء سے مراد ابن مہران ہیں۔
وأخرجه البخاري (1635)، وابن حبان (5392) من طريقين عن خالد بن عبد الله الواسطي، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (1635) اور ابن حبان (5392) نے خالد بن عبداللہ الواسطی کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا سہو ہے (کیونکہ یہ بخاری میں ہے)۔
وأخرجه بنحوه أحمد 3/ (1841) من طريق يزيد بن أبي زياد، عن عكرمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/1841) نے یزید بن ابی زیاد عن عکرمہ کے طریق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 4/ (2227) من طريق مقسم عن ابن عباس قال: طاف رسول الله ﷺ بالبيت، ¤ ¤ وجعل يستلم الحجر بمحجنه، ثم أتى السقاية بعدما فرغ، وبنو عمه ينزعون منها، فقال: "ناوِلوني" فرفع له الدلو فشرب، ثم قال: "لولا أنَّ الناس يتخذونه نسكًا ويغلبونكم عليه، لنزعت معكم" الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (4/2227) نے مقسم عن ابن عباسؓ روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور اپنے "محجن" (مڑی ہوئی لاٹھی) سے حجرِ اسود کا استلام کیا، پھر سقاية (پانی پینے کی جگہ) تشریف لائے اور پانی مانگ کر پیا۔
وأخرج أحمد 5/ (3527) من طريق مجاهد عن ابن عباس أنه قال: جاء النبي ﷺ إلى زمزم، فنزعنا له دلوًا فشرب، ثم مجَّ فيها، ثم أفرغناها في زمزم، ثم قال: "لولا أن تُغلبوا عليها لنزعت بيدي".
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (5/3527) نے مجاہد عن ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ زمزم پر آئے، ہم نے ڈول نکال کر دیا، آپ ﷺ نے پیا، اس میں کلی کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر تم پر (لوگوں کا) غلبہ ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو میں خود اپنے ہاتھ سے پانی نکالتا"۔
وفي الباب عن علي عند أحمد 2/ (562)، والترمذي (885) وقال: حسن صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت علیؓ کی روایت مسند احمد اور ترمذی (885) میں ہے، جسے انہوں نے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وعن جابر بن عبد الله عند مسلم (1218)، وأبي داود (1905)، وابن ماجه (3074)، والنسائي (4153).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت جابرؓ سے مسلم (1218)، ابوداؤد، ابن ماجہ اور نسائی میں مروی ہے۔