المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
67. طواف الإفاضة ورمي الجمار
طوافِ افاضہ اور جمرات کو کنکریاں مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1776
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا يونس بن يزيد، عن الزُّهري: أنَّ رسولَ الله ﷺ كان إذا رَمَى الجَمْرة التي تلي مسجدَ مِنًى يرميها بسَبعِ حَصَياتٍ، يكبِّر كلَّما رَمَى بحصاةٍ، ثم تقدَّم أمامَها فوقفَ مُستقبِلَ البيتِ رافعًا يديه يدعو، وكان يُطيلُ الوقوف، ثم يأتي الجَمْرَة الثانية فيَرميها بسَبعِ حَصَياتٍ يُكبِّر كلَّما رمى بحصاةٍ، ثم يَنحدِر ذاتَ اليَسار مما يلي الوادي، فيقف مُستقبِلَ القِبلةِ رافعًا يديه، ثم يأتي الجَمْرةَ التي عند العَقَبة فيرميها بسَبعِ حَصَياتٍ يُكبِّر عند كلِّ حصاةٍ، ثم ينصرفُ ولا يقومُ عندها. قال الزُّهري: سمعتُ سالمَ بن عبد الله يحدِّث بمِثلِ هذا عن أبيه عن النبيِّ ﷺ. قال: وكان ابنُ عمر يفعلُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا زہری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمی کرتے تو اس جمرہ سے آغاز کرتے جو منٰی میں مسجد سے متصل ہے، آپ اس کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کو مارتے ہوئے تکبیر کہتے پھر تھوڑا آگے کی جانب بڑھ کر قبلہ رو کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ بلند کر کے دعا مانگا کرتے تھے اور آپ بہت دیر تک یہاں کھڑے رہتے پھر آپ دوسرے جمرہ کے پاس آتے، اس کو سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری مارتے ہوئے تکبیر پڑھتے ہوئے پھر بائیں جانب ہٹ کر وادی کے ساتھ متصل قبلہ رو ہو کر ہاتھ بلند کیے بہت دیر تک کھڑے رہتے پھر اس جمرہ کے پاس آتے جو عقبہ کے قریب ہے، اس کو سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری مارتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر پلٹ جاتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ زہری فرماتے ہیں: میں نے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1776]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1776 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. محمد بن يحيى: هو الذهلي، وعثمان بن عمر: هو ابن فارس العبدي، ويونس بن يزيد: هو الأيلي، والزهري: هو محمد بن مسلم بن شهاب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: محمد بن یحییٰ سے مراد الذہلی، عثمان بن عمر سے مراد ابن فارس العبدی اور زہری سے مراد محمد بن مسلم بن شہاب ہیں۔
وعلَّقه البخاري (1753) فقال: وقال محمد: حدثنا عثمان بن عمر … فذكره بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری (1753) نے اسے معلقاً ذکر کیا اور کہا: "محمد نے کہا: ہمیں عثمان بن عمر نے حدیث بیان کی..."۔
هكذا أهمل محمدًا شيخه، وقد اختُلف في تسميته، فقيل: هو محمد بن بشار، وقيل: محمد بن المثنى، وقيل: محمد بن يحيى الذهلي، ورواية الحاكم هذه ترجح أنه الذهلي، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: امام بخاری کے استاد 'محمد' کے نام میں اختلاف ہے کہ وہ ابن بشار ہیں، ابن المثنیٰ ہیں یا الذہلی؛ امام حاکم کی یہ روایت ترجیح دیتی ہے کہ وہ 'الذہلی' ہیں۔
وأخرجه أحمد 10/ (6404). وأخرجه النسائي (4075) عن العباس بن عبد العظيم العنبري، كلاهما (أحمد والعباس) عن عثمان بن عمر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10/6404) اور نسائی (4075) نے عثمان بن عمر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (1751) و (1752)، وابن ماجه (3032)، وابن حبان (3887) من طريقين عن يونس بن يزيد، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (1751، 1752)، ابن ماجہ (3032) اور ابن حبان نے یونس بن یزید کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا سہو ہے کیونکہ یہ بخاری میں موجود ہے۔