🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. طَوَافُ الْإِفَاضَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ
طوافِ افاضہ اور جمرات کو کنکریاں مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1775
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة عبد الرحمن بن عمرٍو الدِّمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشةَ قالت: أفاضَ رسولُ الله ﷺ من آخرِ يومِه حين صلَّى الظُّهر، ثم رَجَعَ فَمَكَثَ بمنًى لياليَ أيامِ التَّشريق يرمي الجَمْرةَ إذا زالت الشمسُ؛ كلَّ جمرةٍ بسبعِ حَصَياتٍ، يكبِّرُ مع كلِّ حصاةٍ، ويقف عند الأُولى وعند الثانية، فيُطيلُ القيامَ ويتضرَّعُ، ثم يرمي الثالثةَ ولا يقفُ عندها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یومِ نحر کے) آخری حصے میں ظہر کی نماز پڑھ کر طوافِ افاضہ کیا، پھر واپس آ کر ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد کنکریاں مارتے تھے؛ ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، آپ پہلے اور دوسرے جمرہ کے پاس کھڑے ہوتے اور طویل قیام فرما کر گڑگڑا کر دعا کرتے، پھر تیسرے جمرہ کو کنکریاں مارتے اور وہاں قیام نہیں فرماتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 1775] [ترقيم الشركة 1762]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1775 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بالتحديث عند ابن حبان ¤ ¤ فانتفت شبهة تدليسه. عبد الرحمن بن القاسم: هو ابن محمد بن أبي بكر الصديق.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، انہوں نے ابن حبان کے ہاں سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔ 🔍 فنی نکتہ: عبدالرحمن بن القاسم سے مراد ابن محمد بن ابی بکر الصدیق ہیں۔
وأخرجه أحمد 41/ (24592)، وأبو داود (1973) من طريق سليمان بن حيان أبي خالد الأحمر، وابن حبان (3868) من طريق يحيى بن سعيد الأموي، كلاهما عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/24592)، ابوداؤد (1973) اور ابن حبان (3868) نے محمد بن اسحاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1775 in Urdu