المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
68. أدب دخول الكعبة
کعبہ میں داخل ہونے کے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1783
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر، حدثنا ابن جُرَيج قال: قلتُ لعطاء: أسمعتَ ابنَ عباس يقول: إنما أُمِرتم بالطواف ولم تُؤمَروا بدخوله؟ قال: لم يكن ينهانا عن دُخولِه، ولكن سمعتُه يقول: أخبَرَني أسامة بن زيد: أنَّ النبيَّ ﷺ دَخَلَ البيت، فلما خَرَجَ ركع ركعتين في قُبُل البيت، وقال:"هذه القِبلةُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا!
سیدنا ابن جریج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عطا ء سے پوچھا: کیا آپ نے ابنِ عباس کا یہ ارشاد سنا ہے؟ ” تمہیں (کعبۃ اللہ کے) طواف کا حکم دیا گیا ہے، اس کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا۔ “ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: آپ علیہ السلام ہمیں اس میں داخل ہونے سے منع کیا کرتے تھے، تاہم میں نے ان کی یہ بات سن رکھی ہے: آپ فرماتے ہیں: مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے پھر جب وہاں سے باہر نکلے تو بیت اللہ کی جانب رُخ کر کے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا:” یہ قبلہ ہے۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1783]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1783 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. محمد بن بكر: هو البُرساني، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: محمد بن بکر سے مراد البرسانی، ابن جریج سے عبدالملک اور عطا سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه مسلم (1330) من طريقين عن محمد بن بكر، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1330) نے محمد بن بکر کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا استدراک یہاں بھی ان کا سہو ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (21754) و (21809)، والبخاري (398)، والنسائي (3886) من طريق عبد الرزاق، وأحمد (21809) عن روح بن عبادة، وابن حبان (3208) من طريق الضحاك بن مخلد، ثلاثتهم عن ابن جريج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (398)، نسائی اور ابن حبان نے عبدالرزاق، روح بن عبادہ اور ضحاک بن مخلد کے واسطے سے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔
وأخرج النسائي في "الكبرى" (3878) من طريق عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، عن أسامة بن زيد قال: دخل رسول الله ﷺ الكعبة، فسبّح في نواحيها وكبّر ولم يصلِّ، ثم خرج فصلى خلف المقام ركعتين، ثم قال: "هذه القبلة". كذا وقع هذا الإسناد في نسخنا الخطية من "الكبرى" بذكر ابن عباس بين عطاء وأسامة، ولم يرد ذكره في "المجتبى" (2909) ولا في "تحفة الأشراف" (110)، ونصَّ المزي على عدم وجودها في رواية عبد المجيد بن أبي رواد، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی کی 'الکبریٰ' (3878) میں اس سند میں ابن عباسؓ کا ذکر ہے، مگر 'المجتبیٰ' اور 'تحفۃ الاشراف' میں یہ ذکر موجود نہیں اور امام مزی نے بھی اس کے نہ ہونے کی تصریح کی ہے۔
وأخرجه بنحوه مطولًا ومختصرًا أحمد (21822) و (21823) و (21830)، والنسائي (3883) و (3884) من طرق عن عبد الملك بن أبي سليمان العرزمي، عن عطاء، عن أسامة بن زيد، لم يذكر ابن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور نسائی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کے طریق سے عطا عن اسامہ بن زیدؓ روایت کیا ہے، اس میں بھی ابن عباسؓ کا ذکر نہیں۔