🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. قصد النبى صلى الله عليه وآله وسلم بناء الكعبة على ما كان قبل بناء قريش
رسولُ اللہ ﷺ کا ارادہ تھا کہ خانۂ کعبہ کو قریش کی تعمیر سے پہلے والی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1784
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جَرير بن حازمٍ قال: سمعتُ يزيد بن رُومانَ يحدِّث عن عبد الله بن الزُبير قال: قالت عائشة: قال لي رسول الله ﷺ:"يا عائشةُ، لولا أنَّ قومَكِ حديثُ عهدٍ بجاهليةٍ، لهَدَمْتُ البيت حتَّى أُدخِل فيه ما أَخرَجوا منه في الحِجْر، فإنهم عَجَزوا عن نفقتِه، وجعلتُ لها بابَين: بابًا شرقيًّا، وبابًا غربيًّا، وألصَقْتُه بالأرض، ولَوَضعتُه على أساسِ إبراهيم". قال: فكان الذي دعا ابنَ الزُّبير على هَدْمِه وبنائِه. قال يزيد بن رُومان: فشهدتُ ابنَ الزُّبير حين هَدَمَه، فاستخرَجَ أساسَ البيت كأسْنِمة البُخْت متلاحكةً (1) ، قال جَرير: فقلتُ ليزيدَ بن رُومان - فأنا يومئذٍ أطوفُ معه -: أَرِني ما أَخرَجوا من الحِجْر منه، قال: أُرِيكَه الآن، فلما انتهى إليه قال: هذا الموضعُ. قال أبي (2) : فحَزَرتُه نحوًا من ستة أذرُع (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اے عائشہ! اگر تیری قوم جاہلیت کے زمانے کے قریب ترین نہ ہوتی (یعنی اگر تیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی) تو میں بیت اللہ کو منہدم کر کے وہ حصہ اس میں داخل کر دیتا جو انہوں نے اس سے (باہر) نکال دیا ہے (یعنی میں حطیم کو دوبارہ کعبہ کی عمارت کی شامل کر دیتا) کیونکہ یہ لوگ اس پر خرچہ کرنے سے عاجز تھے اور میں اس کے دو دروازے رکھتا، ایک دروازہ مشرق کی جانب اور ایک دروازہ مغرب کی جانب۔ اور اس کو زمین کے ساتھ متصل رکھتا اور اس کو ان بنیادوں پر بناتا جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تھیں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان کی وجہ سے) سیدنا عبداللہ بن زبیر نے اس کو گرایا اور دوبارہ تعمیر کیا، یزید بن رومان فرماتے ہیں: جب ابن زبیر نے بیت اللہ کو گرایا تو میں ابن زبیر کے پاس گیا، انہوں نے بیت اللہ کی بنیادیں نکال لی تھیں جیسا کہ بختی اونٹوں کی کوہانیں ایک دوسرے میں پیوست ہوں، میں نے یزید بن رومان سے کہا: (اور میں اس دن ان کے ہمراہ طواف کر رہا تھا) اس کی بنیادوں میں جہاں سے حجر اسود نکالا گیا ہے وہ جگہ مجھے دکھائیں، انہوں نے کہا: میں ابھی تمہیں وہ دکھاتا ہوں، جب اس مقام پر پہنچے تو انہوں نے کہا: یہ وہ جگہ ہے۔ جریر فرماتے ہیں: میں نے اس کی پیمائش کی تو یہ تقریباً 6 ذراع تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1784]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1784 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المتلاحكة: هي المتلائمة والمتداخلة، كما في "لسان العرب" مادة (لحك).
📝 توضیح: "المتلاحكة" کا مطلب ہے آپس میں پیوست اور ایک دوسرے میں داخل ہونے والی چیز۔
(2) القائل "قال أبي": هو وهب بن جرير، فقد روى هذا الحديث عن أبيه كما عند إسحاق بن راهويه في "مسنده" (551)، وابن خزيمة في "صحيحه" (3020)، وابن حبان (3816)، فالذي يظهر أنه دخل على المصنف لفظ حديث يزيد بن هارون بحديث وهب بن جرير، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: قول "قال أبي" کہنے والے وہب بن جریر ہیں جنہوں نے اپنے والد جریر بن حازم سے روایت کی ہے؛ بظاہر مصنف کے ہاں یزید بن ہارون کی حدیث کے الفاظ وہب بن جریر کی حدیث کے ساتھ گڈ مڈ ہو گئے ہیں۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3816) من طريق وهب بن جرير، عن جرير بن حازم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3816) نے وہب بن جریر عن جریر بن حازم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مطولًا ومختصرًا أحمد 42/ (25463) و (25466)، ومسلم (1333) (401)، وابن حبان (3818) من طريق سعيد بن ميناء، والنسائي (3879) من طريق عطاء، كلاهما عن ابن الزبير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم (1333)، ابن حبان اور نسائی نے سعید بن میناء اور عطا کے طریقوں سے ابن الزبیرؓ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وخالف الحارثَ بنَ أبي أسامة جمعٌ، فرووه عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد، لكنهم جعلوه من طريق عروة بن الزبير عن عائشة، بدلًا من عبد الله، فقد أخرجه أحمد 43/ (26029)، وأخرجه البخاري (1586) عن بيان بن عمرو، والنسائي (3872) عن عبد الرحمن بن محمد الطرسوسي، ثلاثتهم (أحمد وبيان وعبد الرحمن) عن يزيد بن هارون، عن جرير، عن يزيد بن رومان، عن عروة بن الزبير، عن عائشة.
🔍 سندی اختلاف: حارث بن ابی اسامہ کے برعکس ایک جماعت نے اسے یزید بن ہارون سے روایت کیا ہے مگر انہوں نے اسے عبداللہ بن زبیرؓ کے بجائے عروہ بن زبیر عن عائشہؓ کی مسند سے بیان کیا ہے۔
وذكر ابن خزيمة (3021)، والبيهقي 5/ 90 أنَّ يزيد بن رومان ربما سمع الخبر من عبد الله وعروة جميعًا. والذي ذهب إليه ابن حجر في "الفتح" 5/ 368 أنَّ رواية الجماعة أوضح، فهي أصح. وصحَّح الدارقطني في "العلل" 15/ 6 (3802) رواية من قال: عبد الله بن الزبير.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: ابن خزیمہ اور بیہقی کے مطابق یزید بن رومان نے شاید عبداللہ اور عروہ دونوں سے سنا تھا، مگر حافظ ابن حجر کے نزدیک جماعت کی روایت (عروہ عن عائشہ) زیادہ اصح ہے، جبکہ دارقطنی نے 'عبداللہ بن زبیر' والی سند کو صحیح کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24297)، والبخاري (1585)، ومسلم (1333) (398)، والنسائي (3871) من طريق هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (40/24297)، بخاری (1585)، مسلم اور نسائی نے ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہؓ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وروي الحديث من غير وجه عن عائشة، انظر تخريجنا لـ "مسند أحمد" (24297).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ سے یہ حدیث دیگر کئی طریقوں سے مروی ہے جس کی تفصیل 'مسند احمد' کی تخریج (24297) میں موجود ہے۔