المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. حلق الرأس
سر منڈوانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1785
أخبرنا أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرقَنْدي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى وعليُّ بن خَشْرَم، قالا: حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن جُريج، أخبَرَني موسى بن عُقْبة، عن نافع، أنَّ ابن عمر أخبره: أنَّ النبي ﷺ حَلَقَ رأسه في حَجَّة الوداع. قال: فكان الناسُ يَحلِقُون في الحجِّ، ثم يَعتَمِرون عند النَّفْر ويقول: بما يُحلَق هذا؟ فنقول: أَمرِرِ المُوسَى على رأسك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر سر منڈایا، ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ بھی حج میں سر منڈا لیا کرتے تھے، پھر روانگی کے وقت عمرہ کیا کرتے تھے، عمرہ کے وقت وہ پوچھتے کہ اب حلق کیسے کروائیں (کیونکہ سر پہلے سے ہی منڈے ہوئے ہیں) تو آپ فرماتے: اپنے سر سے استرہ گزار لو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1785]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1785 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری ہیں اور ابن جریج سے مراد عبدالملک بن عبدالعزیز ہیں۔
وأخرجه أحمد 9/ (5614)، والبخاري (4411) من طريق محمد بن بكر، عن ابن جريج، به. دون قوله: فكان الناس يحلقون في الحج … إلى آخره، والقائل لذلك هو ابن جريج، تفرد به عيسى بن يونس عنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9/5614) اور بخاری (4411) نے محمد بن بکر عن ابن جریج کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں "لوگ حج میں بال منڈواتے تھے..." والے الفاظ نہیں ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: یہ قول ابن جریج کا اپنا ہے جس کے بیان کرنے میں عیسیٰ بن یونس منفرد ہیں۔
وأخرجه بنحوه - بدون هذه الزيادة - البخاري (4410) من طريق أبي ضمرة، ومسلم (1304)، وأبو داود (1980) من طريق يعقوب بن عبد الرحمن الإسكندراني، ومسلم (1304) من طريق حاتم بن إسماعيل، ثلاثتهم عن موسى بن عقبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (4410) نے ابو ضمرہ سے، مسلم (1304) اور ابوداؤد (1980) نے یعقوب بن عبدالرحمن اور حاتم بن اسماعیل کے طریق سے، ان تینوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اسی طرح (بغیر مذکورہ اضافے کے) روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4890)، والبخاري (1726) و (1729)، والترمذي (913)، والنسائي (4099) من طرق عن نافع، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8/4890)، بخاری (1726، 1729)، ترمذی (913) اور نسائی (4099) نے نافع کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (4889) و (5623)، والنسائي (4100) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4889، 5623) اور نسائی نے سالم بن عبداللہ بن عمر عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔