🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. الحج عن الغير
دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1787
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العدل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا عثمان بن الهيثم، حدثنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة: أنَّ رسولَ الله ﷺ أتاه رجلٌ فقال: إنَّ أبي شيخٌ كبيرٌ أدرك الإسلام ولم يَحُجَّ، ولا يَستَمسِكُ على الراحلة، وإن شَدَدتُه بالحبل على الراحلة خَشِيتُ أن أقتله، فقال رسولُ الله ﷺ:"احجُجْ عن أبيك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: میرا والد بوڑھا ہے، وہ مسلمان ہو گیا ہے لیکن وہ حج نہیں کر سکا اور وہ سواری پر سوار نہیں ہو سکتا اور اگر اس کو سواری پر بٹھا کر رسی سے باندھ دوں تو اس کے مر جانے کا خدشہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی طرف سے تم حج کر لو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1787]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1787 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح لكن من حديث ابن عباس كما سيأتي، وقد وهمَ عثمان بن الهيثم فيه - وهو ليس بالحافظ - فرواه على هذا الوجه من حديث أبي هريرة، وتابعه يحيى بن أبي الحجاج عن عوف بن أبي جميلة عند ابن خزيمة في "صحيحه" (3038) وابن عدي في "الكامل" 7/ 221، ويحيى هذا ليّن الحديث وقد اضطرب فيه، فرواه عندهما مرة أخرى عن عوف عن الحسن البصري مرسلًا، فسقط الاحتجاج بروايته.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے مگر ابن عباسؓ کی مسند سے (نہ کہ ابوہریرہؓ سے)۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: عثمان بن الہیتم حافظ نہیں تھے، انہیں وہم ہوا اور انہوں نے اسے ابوہریرہؓ کی مسند سے بیان کر دیا۔ یحییٰ بن ابی الحجاج نے بھی ان کی تائید کی مگر وہ "لَیِّن" (کمزور) راوی ہے اور خود اس نے دوسری جگہ اسے حسن بصری سے "مرسل" روایت کر کے اپنی پہلی روایت کو ساقط کر دیا ہے۔
وذكر الدارقطني في "العلل" 10/ 44 (1844) أنَّ الأشبه بالصواب هو رواية هشام بن حسان عن ابن سيرين عن يحيى بن أبي إسحاق عن سليمان بن يسار عن ابن عباس. وهذه الرواية أخرجها النسائي (3609) و (5914) إلا أنه سمّى ابنَ عباس الفضلَ وليس عبدَ الله، وسليمان بن يسار لم يسمع من الفضل، والصواب أن بينهما عبد الله بن عباس كما وقع في رواية الزهري عن سليمان عند أحمد 3/ (1818) و (1822) والبخاري (1853) ومسلم (1335) وغيرهم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام دارقطنی کے نزدیک صواب یہ ہے کہ یہ سلیمان بن یسار عن ابن عباسؓ کی روایت ہے۔ نسائی کی ایک روایت میں ابن عباس کے بجائے فضل (بن عباس) کا نام ہے، مگر سلیمان کا فضل سے سماع نہیں ہے، لہذا درست وہی روایت ہے جس میں سلیمان اور فضل کے درمیان عبداللہ بن عباسؓ کا واسطہ موجود ہے (جیسا کہ بخاری و مسلم میں ہے)۔
واسم الرجل السائل هو حصين بن عوف الخثعمي كما قرر ذلك الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 6/ 184 بناءً على ما تحصل عنده من مجموع روايات الحديث، وذكر أنَّ قصة الخثعمي هذا غير قصة أبي رَزِين - الآتية بعد هذا الحديث - وقال: وهذه قصة أخرى، ومن وحّد بينها وبين حديث الخثعمي، فقد أبعَدَ وتكلّف.
📝 توضیح: حافظ ابن حجر کے مطابق سائل کا نام حصین بن عوف الخثعمی تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خثعمی کا قصہ ابورزین کے قصے سے الگ ہے، ان دونوں کو ایک قرار دینا تکلف اور حقیقت سے دوری ہے۔