المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. أفضل العبادة هو الدعاء
سب سے افضل عبادت دعا ہے۔
حدیث نمبر: 1824
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرِير، عن منصور، عن ذَرٍّ، فذكره بإسناده بمثله (3) . ولهذا الحديث شاهدٌ بإسناد صحيح عن عبد الله بن عباس:
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بھی منصور کے واسطے سے ” ذر (بن عبداللہ ہمدانی) “ سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے جس کی سند بھی اسی جیسی ہے۔ سند صحیح کے ہمراہ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1824]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1824 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری اور جریر سے مراد ابن عبدالحمید ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (890) من طريق أبي خيثمة زهير بن حرب، عن جرير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (890) نے ابونجیح زہیر بن حرب عن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) حديث حسن، وهذا الحديث له إسنادان، الأول رواه كامل بن العلاء عن حبيب بن أبي ثابت عن ابن عباس، والثاني رواه كامل بن العلاء عن أبي يحيى عن مجاهد عن ابن عباس، وكامل بن العلاء صدوق حسن الحديث، وباقي رجاله من جهة حبيب بن أبي ثابت ثقات، وحبيب وإن كان قد لقي ابن عباس إلّا أنه معروف بالتدليس وقد عنعن، أما من جهة أبي يحيى - وهو القتات الكوفي - فإنَّ يحيى هذا فيه ضعف، وباجتماع الطريقين فإنَّ الإسناد يرتقي إلى الحسن، والله أعلم. مجاهد: هو ابن جبر المكي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حدیث حسن" ہے۔ کامل بن العلاء صدوق ہیں اور ان کی دو سندیں ہیں؛ حبیب بن ابی ثابت اگرچہ مدلس ہیں مگر دوسری سند میں ابویحییٰ القتات (اگرچہ ضعیف ہیں) کی موجودگی سے دونوں طرق مل کر "حسن" کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں۔
وهذا الحديث بهذا الإسناد لم نقع عليه عند غير المصنف.
📖 حوالہ / مصدر: ہمیں یہ حدیث اس سند کے ساتھ مصنف (حاکم) کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔