المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. من لا يدعو الله يغضب عليه
جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1831
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري وأبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أبو صالح محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاريُّ، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرةَ قال: ما جلس قومٌ مجلسًا، ثم تفرَّقوا قبل أن يَذكُروا الله ويصلُّوا على نبيه ﷺ، إلَّا كان عليهم حسرةً يومَ القيامة (2) . هذا لا يعلِّلُ حديثَ سهيل، فإنَّ الزيادة من سليمان بن بلال وابن أبي حازم مقبولة، وقد أسنَدَه سعيدٌ المقبُريُّ عن أبي هريرة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اُٹھ کر چلے جائیں، قیامت کے دن ان کو اس پر حسرت ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث سہیل کی حدیث کو معلل نہیں کرتی کیونکہ یہ زیادتی سلیمان بن بلال اور ابن حازم کی جانب سے ہے اور ان کی زیادتی مقبول ہے اور اس کو سعید المقبری نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسنداً بھی روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1831]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1831 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي، محبوب بن موسى فيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح، وقد اختلف على ¤ ¤ الأعمش في رفعه ووقفه، فقد وقفه هنا محبوب عن الفزاري عن الأعمش، وخالفه شعبة فيما رواه عبد الرحمن بن مهدي عنه عن الأعمش فرفعه، وهو المحفوظ؛ لجلالة قدر شعبة أولًا، ثم إنَّ سهيل بن أبي صالح رواه أيضًا عن أبيه فرفعه - كما سلف قبله - وقد رواه غير واحد عن أبي هريرة فرفعوه.
⚖️ درجۂ حدیث: سند قوی ہے، محبوب بن موسیٰ کے حافظے میں کچھ کمزوری ہے جو اسے صحیح کے درجے سے نیچے لاتی ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: اعمش سے اس کے متصل یا مرسل ہونے میں اختلاف ہے؛ امام شعبہ نے اسے "مرفوع" بیان کیا ہے اور یہی محفوظ ہے، کیونکہ شعبہ جلیل القدر امام ہیں اور سہیل بن ابی صالح نے بھی اسے مرفوع ہی روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 16/ (9965)، وابن حبان (591) و (592) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة مرفوعًا. وزاد في آخره: "وإن دخلوا الجنة للثواب".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (16/9965) اور ابن حبان نے شعبہ کے طریق سے مرفوعاً روایت کیا ہے، جس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: "اگرچہ وہ (ذکر نہ کرنے والے) ثواب کی بنا پر جنت میں داخل ہو جائیں (تب بھی انہیں حسرت ہوگی)"۔