المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. لا يرد القدر إلا الدعاء
تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی۔
حدیث نمبر: 1835
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة. وأخبرنا أبو بكر بن أبي نصر الدَّارَبردي بمَرْو، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذيفة؛ قالا: حدثنا سفيان الثَّوْري، عن عبد الله بن عيسى، عن عبد الله بن أبي الجَعْد، عن ثوبانَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا يَرُدُّ القَدَرَ إلَّا الدعاءُ، ولا يَزيدُ في العُمُر إِلَّا البِرُّ، وإنَّ الرجل ليُحرَمُ الرِّزقَ بالذَّنْب يصيبُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعاء کے سوا کوئی چیز تقدیر کو رد نہیں کر سکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی اور انسان گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1835]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1835 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره دون قوله: "وإنَّ الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه"، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن أبي الجعد، فقد روى عنه اثنان أو ثلاثة وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد تفرد بالحرف المشار إليه. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي.
⚖️ حسن لغیرہ: اس کا کچھ حصہ ("بلاشبہ آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے") کے علاوہ باقی متن حسن لغیرہ ہے۔ عبداللہ بن ابی الجعد کی وجہ سے سند "حسن" کے درجے کی ہے کیونکہ ابن حبان نے انہیں ثقہ کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22386) و (22413)، وابن ماجه (90) و (4022)، وابن حبان (872)، والنسائي في الرقائق كما في "تحفة الأشراف" (2093) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/22386)، ابن ماجہ (90، 4022)، ابن حبان اور نسائی نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (6152) من طريق مجاهد عن ابن عباس عن ثوبان، وإسناده تالف.
🔁 تکرار: یہ روایت آگے نمبر (6152) پر مجاہد عن ابن عباس عن ثوبان کی سند سے آئے گی مگر وہ سند "تالف" (سخت ضعیف) ہے۔
ويشهد له حديث سلمان عند الترمذي (2139)، وقال فيه الترمذي: حديث حسن غريب من حديث سلمان.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت سلمانؓ کی حدیث ترمذی (2139) میں اس کی شاہد ہے اور امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
وحديث أنس بن مالك عند الطبراني في "الدعاء" (29)، وابن شاهين في "الترغيب في فضائل الأعمال" (150)، وأبي طاهر السلفي في "الدعاء" (24).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت انس بن مالکؓ سے بھی طبرانی اور ابن شاہین نے اسے روایت کیا ہے۔
وانظر حديث عائشة السالف قبله.
🔍 ہدایت: حضرت عائشہؓ کی سابقہ حدیث (1834) بھی ملاحظہ فرمائیں۔