المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل
دعا نازل ہونے والی اور نہ نازل ہونے والی دونوں مصیبتوں میں فائدہ دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 1836
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي مُلَيكة، عن موسى ابن عُقبة، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسولُ الله ﷺ:"الدُّعاء يَنفَعُ ممَّا نَزَلَ ومما لم يَنزِلْ، فعليكم عباد الله بالدُّعاء" (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دعا ان آزمائشوں سے فائدہ دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہیں اور ان آزمائشوں سے بھی جو ابھی تک نازل نہیں ہوئیں۔ اس لیے اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ دعا مانگا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1836]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1836 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي مليكة.
⚖️ درجۂ حدیث: عبدالرحمن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے ضعف کی وجہ سے سند "ضعیف" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3548) عن الحسن بن عرفة، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث عبد الرحمن بن أبي بكر القرشي، وهو المكي المليكي، وهو ضعيف في الحديث قد تكلم فيه بعض أهل الحديث من قبل حفظه. قلنا: وقال فيه أحمد والعقيلي: منكر الحديث وقال ابن عدي: لا يتابع في حديثه، وقال النسائي: ليس بثقة، وقال مرةً: متروك الحديث، وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": واهٍ، وخفف الساجي فيه العبارة فقال: صدوق فيه ضعف يحتمل، وقال أبو حاتم: ليس بقوي في الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3548) نے یزید بن ہارون کی سند سے روایت کیا اور اسے "غریب" کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عبدالرحمن المليکی حافظے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ 👤 راوی پر جرح: امام احمد اور نسائی نے انہیں "منکر الحدیث" اور "متروک" کہا، جبکہ ذہبی نے "واہی" (نہایت کمزور) قرار دیا۔
وحديث عائشة المتقدم برقم (1834) يغني عنه.
📌 اہم نکتہ: حضرت عائشہؓ کی سابقہ حدیث (1834) اس کی جگہ کفایت کرتی ہے۔