المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل
دعا نازل ہونے والی اور نہ نازل ہونے والی دونوں مصیبتوں میں فائدہ دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 1837
أخبرنا أبو نَصْر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيبٍ الحافظ، حدثنا علي بن الجَعْد، أخبرني علي بن علي الرِّفاعي. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثنا محمد بن يزيد أبو هشام، حدثنا أبو أسامة، حدثني علي بن عليٍّ، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيدٍ، عن النبي ﷺ قال:"ما من مسلمٍ يدعو اللهَ بدعوةٍ ليس فيها مَأْثَمٌ ولا قطيعةُ رَحِمٍ، إلَّا أعطاه إحدى ثلاث: إما أن يَستجيبَ له دعوتَه، أو يَصرِفَ عنه من السوء مِثلَها، أو يَدّخرَ له من الأجرِ مِثلَها"، قالوا: يا رسول الله، إذًا نُكثِرَ، قال:"اللهُ أكثرُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجاه عن علي بن علي الرِّفاعي.
هذا حديث صحيح الإسناد إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجاه عن علي بن علي الرِّفاعي.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مسلمان جب اللہ سے دعا کرتا ہے، اس میں گناہ اور قطح رحمی کی طلب نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین فائدوں میں سے ایک ضرور دیتا ہے: (1) اس کی خواہش کو پورا کر دیا جاتا ہے۔ (2) اس سے اس جیسی کوئی تکلیف دور کر دی جاتی ہے۔ (3) اس کی دعا کی مثل اس کے لیے ثواب کا ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو علی بن علی الرفاعی کے حوالے سے روایت نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1837]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1837 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وحديث عبادة بن الصامت أخرجه عبد الله بن أحمد في زوائده على "المسند" لأبيه 37/ (22785)، والترمذي (3573) وقال: حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه. ¤ ¤ قولهم: إذًا نكثر، أي: من الدعاء.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عبادہ بن صامتؓ کی حدیث ترمذی (3573) میں ہے جسے انہوں نے "حسن صحیح غریب" کہا ہے۔ 📝 توضیح: "اذًا نکثر" کا مطلب ہے 'تب تو ہم بکثرت دعا کریں گے'۔
وقوله: "الله أكثر" أي: فضله وعطاؤه أكثر من دعائكم، والله تعالى أعلم. قاله السندي في حاشيته على "المسند".
📝 توضیح: "اللہ اکثر" کا مطلب ہے کہ اللہ کا فضل اور عطا تمہاری دعاؤں سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہے۔ (حاشیہ سندھی)
(2) حديث جيد، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن يزيد أبي هشام - وهو الرفاعي - وقد توبع. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، وعلي بن علي: هو ابن نجاد الرفاعي، وهو صدوق جيد الحديث، وأبو المتوكل: هو علي بن داود - ويقال ابن دؤاد - الناجي.
⚖️ حدیث جید: یہ حدیث جید (عمدہ) ہے، مگر یہ سند محمد بن یزید الرفاعی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے؛ تاہم ان کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابواسامہ سے مراد حماد بن اسامہ اور ابوالمتوکل سے مراد علی بن داؤد الناجی ہیں۔
وأخرجه أحمد 17/ (11133) عن أبي عامر العقدي، عن علي بن علي، بهذا الإسناد. ويشهد له حديث أبي هريرة الآتي برقم (1850).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/11133) نے ابوعامر العقدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابوہریرہؓ کی اگلی حدیث (1850) بھی اس کی شاہد ہے۔