علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. من فتح له فى الدعاء منكم فتحت له أبواب الجنة
جس کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے گئے۔
حدیث نمبر: 1854
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي مُلَيكة، عن موسى بن عُقبة، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن فُتِح له في الدُّعاء منكم، فُتِحَتْ له أبوابُ الجنة، ولا يسألُ اللهَ عبدٌ شيئًا أحبَّ إليه من أن يَسألَ العافيةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس کے لیے دعا (کی توفیق) کا دروازہ کھول دیا گیا، اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے گئے، اور اللہ تعالیٰ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کیا گیا جو اسے عافیت و سلامتی مانگنے سے زیادہ محبوب ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1854]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن أبي بكر المليكي، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1854 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن أبي بكر المليكي، وبه أعلّه ¤ ¤ الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ حسن لغیرہ: یہ روایت حسن لغیرہ ہے، مگر عبدالرحمن بن ابی بکر المليکی کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے، اور امام ذہبی نے بھی یہی علت بیان کی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3548) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وقال بإثره: هذا حديث غريب، لا نعرفه إلّا من حديث عبد الرحمن بن أبي بكر القرشي، وهو ضعيف في الحديث، ضعَّفه بعض أهل العلم من قبل حفظه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3548) نے یزید بن ہارون کی سند سے روایت کیا اور اسے "غریب" کہا۔ انہوں نے صراحت کی کہ عبدالرحمن المليکی اپنے حافظے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔
وأخرج الشطر الثاني منه الترمذي (3549) من طريق إسرائيل، عن عبد الرحمن المليكي، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی (3549) نے اس کا دوسرا حصہ اسرائیل عن عبدالرحمن المليکی کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الله بن عباس، سيأتي برقم (1960) وهو صحيح بطرقه.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عبداللہ بن عباسؓ کی حدیث آگے نمبر (1960) پر آئے گی جو اپنے تمام طرق کی وجہ سے صحیح ہے۔
وعن عبد الله بن جعفر، سيأتي برقم (6559).
🧩 متابعات و شواہد: عبداللہ بن جعفرؓ کی روایت آگے نمبر (6559) پر آئے گی۔
وعن أبي بكر الصديق عند أحمد 1/ (6) و (10) و (38) و (16)، وابن ماجه (3849)، والترمذي (3558)، والنسائي (10654 - 10658)، وابن حبان (950)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابوبکر صدیقؓ سے امام احمد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان میں مروی ہے اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
وعن العباس بن عبد المطلب عند أحمد 3/ (1776) و (1783)، والترمذي (3514)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ کی حدیث مسند احمد اور ترمذی میں ہے مگر سند ضعیف ہے۔
وعن أنس بن مالك عند أحمد 19/ (12291)، وابن ماجه (3848)، والترمذي (3512)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1854 in Urdu