🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. الظوا بيا ذا الجلال والإكرام
یا ذوالجلال والاکرام کو لازم پکڑو (کثرت سے پڑھو)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1857
أخبرنا الحسن بن محمد الحَلِيمي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عبدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني يحيى بن حسان، يحدِّث عن ربيعة بن عامرٍ قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"أَلِظُّوا بِيا ذا الجَلالِ والإكرام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ربیعہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا ذا الجلال والاکرام (کے وظیفے) کے ساتھ چمٹے رہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1857]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1857 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، ويحيى بن حسان: هو البكري الفلسطيني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو الموجه سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے عبداللہ بن عثمان المروزی، عبداللہ سے ابن المبارک اور یحییٰ بن حسان سے البکری الفلسطيني مراد ہیں۔
وأخرجه النسائي (11499) عن محمد بن يحيى بن أيوب المروزي، عن عبدان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11499) نے عبدان کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17596)، والنسائي (7669) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/17596) اور نسائی نے عبداللہ بن المبارک کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وعن أنس بن مالك عند الترمذي (3524) و (3525). ورجَّح الترمذي أنه عن الحسن البصري مرسل.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت انس بن مالکؓ سے ترمذی (3524) میں مروی ہے، مگر امام ترمذی نے ترجیح دی ہے کہ یہ حسن بصری کی "مرسل" روایت ہے۔
قوله: "ألظّوا بيا ذا الجلال والإكرام" أي: الزموا هذا النداء واثبتوا عليه وأكثروا من قوله والتلفظ به في دعائكم.
📝 توضیح: "ألظّوا بيا ذا الجلال والإكرام" کا مطلب ہے: اس پکار (یا ذا الجلال والاکرام) کو لازم پکڑ لو، اس پر ثابت قدم رہو اور اپنی دعاؤں میں اسے کثرت سے پڑھا کرو۔