علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. الظوا بيا ذا الجلال والإكرام
یا ذوالجلال والاکرام کو لازم پکڑو (کثرت سے پڑھو)۔
حدیث نمبر: 1857
أخبرنا الحسن بن محمد الحَلِيمي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عبدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني يحيى بن حسان، يحدِّث عن ربيعة بن عامرٍ قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"أَلِظُّوا بِيا ذا الجَلالِ والإكرام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
ربیعہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم «أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے جلال اور اکرام والے (کے الفاظ) کو اپنے اوپر لازم کر لو اور ان کے ذریعے اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگا کرو“۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1857]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، ويحيى بن حسان: هو البكري الفلسطيني.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1857 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، ويحيى بن حسان: هو البكري الفلسطيني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو الموجه سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے عبداللہ بن عثمان المروزی، عبداللہ سے ابن المبارک اور یحییٰ بن حسان سے البکری الفلسطيني مراد ہیں۔
وأخرجه النسائي (11499) عن محمد بن يحيى بن أيوب المروزي، عن عبدان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11499) نے عبدان کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17596)، والنسائي (7669) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/17596) اور نسائی نے عبداللہ بن المبارک کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وعن أنس بن مالك عند الترمذي (3524) و (3525). ورجَّح الترمذي أنه عن الحسن البصري مرسل.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت انس بن مالکؓ سے ترمذی (3524) میں مروی ہے، مگر امام ترمذی نے ترجیح دی ہے کہ یہ حسن بصری کی "مرسل" روایت ہے۔
قوله: "ألظّوا بيا ذا الجلال والإكرام" أي: الزموا هذا النداء واثبتوا عليه وأكثروا من قوله والتلفظ به في دعائكم.
📝 توضیح: "ألظّوا بيا ذا الجلال والإكرام" کا مطلب ہے: اس پکار (یا ذا الجلال والاکرام) کو لازم پکڑ لو، اس پر ثابت قدم رہو اور اپنی دعاؤں میں اسے کثرت سے پڑھا کرو۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1857 in Urdu