🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. اسم الله الأعظم الذى إذا دعي به أجاب وإذا سئل به أعطى
اللہ کے اسمِ اعظم کا بیان کہ جب اس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو عطا کیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1879
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا أحمد بن عُبيد الله النَّرْسي، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغْوَل. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان، حدثنا سعيد بن عمرو الأشْعَثي، حدثنا وكيع بن الجرّاح، حدثنا مالك بن مِغْول، عن عبد الله بن بُرَيدةَ الأسْلَمي، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ سمع رجلًا يقول: اللهمَّ إنِّي أسألُك بأنك أنتَ الله لا إله إلَّا أنتَ، الأحدُ الصَّمدُ، الذي لم يَلِدْ ولم يُولَدْ، ولم يكن له كفوًا أَحد، فقال النبيُّ ﷺ:"لقد سألتَ اللهَ باسمِه الأعظمِ، الذي إذا سُئِل به أَعطَى، وإذا دُعِي به أجاب" (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
سیدنا عبداللہ بن بریدہ الاسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تنہا ہے، سب سے بے نیاز ہے، جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تو نے اللہ سے اس کے اسمِ اعظم کے وسیلے سے سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے مانگا جائے تو وہ عطا کرتا ہے اور پکارا جائے تو جواب دیتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1879]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1879] [ترقيم الشركة 1864]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1879 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (23041)، وابن ماجه (3857) من طريق وكيع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 38/ (23041) اور ابن ماجہ (3857) نے وکیع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا ومطولًا وفيه قصة أحمد (22952) عن عثمان بن عمر، وأحمد أيضًا (22965)، وأبو داود (1493)، والنسائي (7619)، وابن حبان (891) من طريق يحيى بن سعيد القطان، وأبو داود (1494)، والترمذي (3475)، والنسائي (11652)، وابن حبان (892) من طريق زيد بن الحباب، ثلاثتهم عن مالك بن مغول، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے یحییٰ بن سعید القطان اور زید بن الحباب کے طرق سے روایت کیا ہے؛ یہ تمام مالک بن مغول سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں ایک قصہ بھی مذکور ہے۔
وذكر زيد بن الحباب بإثر الحديث عند الترمذي والنسائي أنه رواه أيضًا عن زهير بن معاوية عن أبي إسحاق السبيعي عن مالك بن مغول به، ثم رواه عن سفيان الثوري عن مالك بن مغول. وكذا ذكر عند ابن حبان لكنه لم يذكر روايته عن سفيان.
🧾 تفصیلِ روایت: زید بن الحباب نے ترمذی و نسائی کے ہاں ذکر کیا کہ انہوں نے اسے زہیر بن معاویہ اور سفیان ثوری کے واسطوں سے بھی مالک بن مغول سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي بعده من طريق شريك القاضي عن أبي إسحاق، وقد اضطرب شريك فيه.
⚠️ سندی اختلاف: یہ روایت آگے شریک القاضی کے طریق سے آئے گی، اور شریک اس میں اضطراب کا شکار ہوئے ہیں۔
وسلف برقم (999) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث، عن أبيه، عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة عن حنظلة بن علي، عن محجن بن الأدرع، قال: دخل رسول الله ﷺ المسجد، فإذا برجل قد صلَّى صلاته وهو يتشهد، ويقول: اللهم أني أسألك يا الله الواحد الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوًا أحد، أن تغفر ذنوبي، إنك أنت الغفور الرحيم، فقال: "قد غُفر له، قد غُفر له". فجعله من حديث محجن، قال أبو حاتم كما في "العلل" لابنه (2082): ¤ ¤ حديث عبد الوارث أشبه. قلنا: وقد ذكرنا في التعليق على "سنن أبي داود" (985) أنه لا وجه لترجيح إحدى الروايتين على الأخرى، حيث إنَّ ألفاظهما متباينة، فلا يوجد ما يمنع أن تكونا قصتين، وأن يكون ابن بريدة رواهما جميعًا، والله أعلم.
📝 توضیح: یہ حدیث پہلے (999) پر محجن بن الادرع کے واسطے سے گزر چکی ہے جس میں "یا اللہ الواحد الصمد" کے الفاظ ہیں۔ ابوحاقتم نے اسے محجن کی روایت قرار دیا، لیکن ہم نے ابوداؤد کی تعلیق میں واضح کیا ہے کہ دونوں روایتیں الگ قصے ہو سکتے ہیں اور ابن بریدہ نے دونوں ہی سنی ہوں گی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1879 in Urdu