المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. من دعا بدعوة ذي النون استجاب الله له
جس نے ذوالنون (سیدنا یونس علیہ السلام) کی دعا سے دعا کی اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 1885
فأخبرَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا ابن أبي الدُّنيا، حدّثني عُبيد بن محمد، حدثنا محمد بن مُهاجر القُرَشي، حدثني إبراهيم بن محمد بن سعد، عن أبيه، عن جدِّه قال: كنا جلوسًا عند رسول الله ﷺ فقال:"ألا أخبِرُكم بشيء إذا نزل برجل منكم كَرْبٌ أو بلاءٌ من بلايا الدنيا دعا به يُفَرَّجْ عنه؟" فقيل له: بلى، فقال:"دعاءُ ذي النُّون: لا إله إلَّا أنتَ، سبحانَك إنِّي كنتُ من الظالمين" (1) .
سیدنا ابراہیم بن محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں کہ اگر تم کسی دنیاوی آزمائش میں مبتلا ہو اور وہ دعا مانگو تو اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش ختم فرما دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا:” لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ، اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1885]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1885 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيد بن محمد - وهو المحاربي - وشيخُه محمد بن مهاجر القرشي قال البخاري: لا يتابع على حديثه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے لیکن یہ سند عبید بن محمد المحاربی اور ان کے شیخ محمد بن مہاجر کی وجہ سے ضعیف ہے (بخاری کے بقول ان کی متابعت نہیں کی جاتی)۔
وأخرجه النسائي (10416) عن القاسم بن زكريا، عن عبيد بن محمد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10416) نے قاسم بن زکریا کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔