🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. أيما مسلم دعا بدعوة يونس عليه السلام فى مرضه أربعين مرة فمات فى مرضه ذلك أعطي أجر شهيد ، وإن برأ برأ ، وقد غفر له جميع ذنوبه
جو مسلمان اپنی بیماری میں چالیس مرتبہ سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا پڑھے، پھر اسی بیماری میں وفات پا جائے تو اسے شہید کا اجر دیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1886
حدَّثَناه الزُّبير بن عبد الواحد الحافظ، حدثنا محمد بن الحسن بن قُتيبة العَسْقلاني، حدثنا أحمد بن عمرو بن بَكْر السَّكْسَكيّ، حدّثني أبي، عن محمد بن زيد (2) ، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد بن مالكٍ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"هل أدلُّكم على اسمِ الله الأعظم الذي إذا دُعِيَ به أجاب، وإذا سُئِلَ به أَعطَى؟ الدعوةُ التي دعا بها يُونُسُ حيثُ ناداه في الظُّلُمات الثلاث: لا إله إلَّا أنتَ، سبحانَكَ إِنِّي كنتُ من الظالمين"، فقال رجل: يا رسولَ الله، هل كانت ليونُسَ خاصةً أم للمؤمنين عامة؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"ألا تسمعُ قولَ الله ﷿: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأنبياء: 88] " وقال رسول الله ﷺ:"أيُّما مسلمٍ دعا بها في مَرَضِه أربعينَ مرةً، فمات في مَرَضِه ذلك، أُعطِيَ أجرَ شهيد، وإن بَرَأَ بَرَأَ وقد غُفِرَ له جميعُ ذنوبه" (3) .
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کے بارے میں رہنمائی نہ کروں کہ اس کے ساتھ جب دعا مانگی جائے تو قبول کی جاتی ہے، جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو پورا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ دعا ہے جو سیدنا یونس علیہ السلام نے مانگی تھی، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اندھیریوں میں تین مرتبہ یہ دعا مانگی تھی: لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ، اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ سیدنا یونس علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے یا تمام مؤمنوں کے لیے ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سُنا: وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ، وَکَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ یہ دعا مانگے اور اسی بیماری میں اس کا انتقال ہو جائے تو اس کو شہید کے برابر اجر دیا جاتا ہے اور اگر اس بیماری سے شفایاب ہو جائے تو اس کے تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1886]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1886 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: يزيد، والتصويب من "إتحاف المهرة" (5116) و"تلخيص المستدرك" و"قوارع القرآن" للجوري حيث رواه من طريق المصنف نفسه، ومحمد بن زيد هذا: هو ابن المهاجر، فهو الذي يروي عن سعيد بن المسيب، ويروي عنه عمرو بن بكر السكسكي.
📝 توضیح: قلمی نسخوں میں "یزید" ہے، درست "محمد بن زید" (ابن المہاجر) ہے جو سعید بن المسیب سے روایت کرتے ہیں۔
(3) إسناده تالف، أحمد بن عمرو بن بكر السكسكي، كذا سماه المصنف، ولم نقع لعمرو بن بكر السكسكي على ابنٍ اسمه أحمد، وإنما يروي عنه ابنه إبراهيم، فالغالب على الظن أنه إبراهيم هذا، ووهم المصنف فسماه أحمد، وإبراهيم وأبوه عمرو بن بكر متروكان، بل اتهمهما ابن حبان بالوضع. ¤ ¤ وأخرجه أبو عمر الجوري في "قوارع القرآن" (70) عن أبي عبد الله الحاكم إجازةً، بهذا الإسناد.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (انتہائی نکمی) ہے۔ مصنف نے احمد بن عمرو بن بکر السکسکی کہا ہے، حالانکہ عمرو کا بیٹا ابراہیم ہے (احمد نہیں)۔ ابراہیم اور اس کا باپ عمرو دونوں "متروک" ہیں، ابن حبان نے تو انہیں حدیث گھڑنے (وضع) سے متہم کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 17/ 82 من طريق يحيى بن صالح، عن أبي يحيى بن عبد الرحمن، عن بشر بن منصور، عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب، به. أبو يحيى بن عبد الرحمن لم نتبينه، وعلي بن زيد - وهو ابن جدعان - ضعيف، فيحتمل أن تكون رواية عمرو بن بكر السكسكي عن علي بن زيد هذا، فأبدله عمرو بن بكر أو ابنه إبراهيم بمحمد بن زيد - وهو ابن المهاجر الثقة - ولا يستبعد هذا فهما متهمان، والله تعالى أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی تفسیر 17/ 82 میں روایت کیا ہے۔ اس میں علی بن زید (ابن جدعان) ضعیف ہے۔ غالب گمان ہے کہ عمرو بن بکر یا اس کے بیٹے نے سند بدل کر ثقہ راوی کا نام لگا دیا ہے کیونکہ وہ متہم ہیں۔
لكن صحَّ الحديث بسياقة أخرى من وجه آخر عن سعد، انظر الأحاديث الثلاثة السابقة.
📌 اہم نکتہ: لیکن یہ حدیث دیگر صحیح سندوں سے حضرت سعد سے ثابت ہے (پچھلی تین احادیث دیکھیں)۔