المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. أيما مسلم دعا بدعوة يونس عليه السلام فى مرضه أربعين مرة فمات فى مرضه ذلك أعطي أجر شهيد ، وإن برأ برأ ، وقد غفر له جميع ذنوبه
جو مسلمان اپنی بیماری میں چالیس مرتبہ سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا پڑھے، پھر اسی بیماری میں وفات پا جائے تو اسے شہید کا اجر دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1888
حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن مَهْدي العطّار بالفُسْطاط، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا ابن زَبْر - وهو عبد الله بن العلاء - قال: سمعت القاسم أبا عبد الرحمن يقول: إنَّ اسمَ الله الأعظم لفي سورٍ من القرآن ثلاثٍ: البقرة وآل عمران، وطه. فقال له رجل يقال له: عيسى بن موسى - وأنا أسمع -: يا أبا زَبْر سمعتُ غَيْلانَ بن أنسٍ يقول: سمعتُ القاسم أبا عبد الرحمن يقول (2) : سمعتُ أبا أمامة يحدِّث عن النبي ﷺ: أنَّ اسمَ الله الأعظم لفي سورٍ من القرآن ثلاثٍ. ثم ذكره بنحوه (1) . حديث عمرو بن أبي سلمة هذا لا يعلِّل حديث الوليد بن مسلم، فإنَّ الوليد أحفظُ وأتقنُ وأعرفُ بحديث بلده، على أنَّ الشيخين لم يحتجّا بالقاسم أبي عبد الرحمن.
سیدنا عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابن ازبر عبداللہ بن العلاء نے فرمایا: میں نے قاسم ابوعبدالرحمن کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں نے ابوامامہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کرتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم قرآن پاک کی تین سورتوں میں ہے۔ ان کو عیسیٰ بن موسیٰ نے کہا: اے ابوزبر! میں نے بھی یہ حدیث سُنی ہے۔ میں نے غیلان بن انس کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے قاسم ابوعبدالرحمن کو ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کرتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم قرآن کریم کی تین سورتوں میں ہے پھر اس کے بعد عمرو بن ابی سلمہ کی طرح حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث ولید بن مسلم کی حدیث کو معلل نہیں کرتی۔ کیونکہ ولید بن مسلم اپنے شہر کی احادیث کو دوسروں سے زیادہ یاد رکھنے والے محفوظ رکھنے والے اور زیادہ پہچاننے والے ہیں۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قاسم ابوعبدالرحمن کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1888]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1888 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لين، عمرو بن أبي سلمة يعتبر به في المتابعات، والراوي عنه محمد بن مهدي العطار، روى عنه جمع منهم ابن خزيمة، ولم نقف له على ترجمة، غير أنَّ ابن خزيمة قال في "صحيحه" (1746): فارسي الأصل سكن الفُسطاط. قلنا: وهو متابع، لكن المحفوظ رفعه كما في رواية الوليد بن مسلم السابقة. محمد بن إسحاق: هو ابن خزيمة الإمام.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس سند میں نرمی (ضعف) ہے؛ عمرو بن ابی سلمہ متابعات میں معتبر ہیں، اور ان سے روایت کرنے والے محمد بن مہدی العطار کے حالات نہیں ملے۔ 🔍 فنی نکتہ: محفوظ بات اس کا "مرفوع" ہونا ہی ہے جیسا ولید بن مسلم کی روایت میں گزرا۔
وأخرجه ابن ماجه (3856) و (3856 م) عن عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي، عن عمرو بن أبي سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3856) نے عبدالرحمن بن ابراہیم الدمشقی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) من قوله: "إن اسم الله" إلى هنا سقط من (ب) والمطبوع.
📝 توضیح: "ان اسم اللہ" سے یہاں تک کا حصہ بعض نسخوں سے ساقط ہے۔