🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. دعاؤه صلى الله عليه وآله وسلم يوم أحد
غزوۂ اُحد کے دن رسولُ اللہ ﷺ کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1889
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا ابن أبي مَسَرَّة، حدثنا خَلّاد بن يحيى، حدثنا عبد الواحد بن أيمن المكِّي، عن عُبيد بن رِفاعةَ بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه قال: [لمّا] كان يومُ أُحدٍ انكَفَأَ المشركون، فقال رسول الله ﷺ:"استَوُوا حتى أُثْنيَ على ربِّي"، فصاروا خلفَه صفوفًا، فقال:"اللهمَّ لك الحمدُ كلُّه، اللهمَّ لا مانعَ لما بَسَطْتَ، ولا باسطَ لما قَبضتَ، ولا هاديَ لمن أضللتَ، ولا مُضِلَّ لمن هديتَ، ولا مُنْطِيَ لما مَنعتَ، ولا مانعَ لما أَنْطيتَ، ولا مقرِّبَ لما باعدتَ، ولا مُباعِدَ لما قرَّبتَ، اللهمَّ ابسُطْ علينا من بَرَكاتِكَ ورَحمتِك وفَضلِكَ ورِزْقِكَ، اللهمَّ إنِّي أسألك النَّعيمَ يومَ القيامة، والأمنَ يومَ الخوف، اللهمَّ عائذٌ بك من شرِّ ما أعطيتَنا، وشرِّ ما مَنَعْتَنا، اللهمَّ حبِّب إلينا الإيمانَ وزيِّنْه في قلوبنا، وكَرِّه إلينا الكُفْرَ والفُسوقَ والعِصيانَ، واجعلنا من الرَّاشدين، اللهمَّ تَوفَّنا مُسلمِين، وأَحْيِنا مُسلمِين، وأَلْحِقْنا بالصالحين، غيرَ خزايا ولا مَفتونِين اللهمَّ قاتلِ الكفرةَ الذين يكذِّبون رُسُلَك، ويَصُدُّون عن سبيلك، واجعلْ عليهم رِجْزَكَ وعذابَك الحقَّ الحقَّ" (2) .
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احد کے دن جب مشرکین واپس پلٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفیں درست کرو، میں اپنے رب کی توصیف و ثناء بیان کروں۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا شروع کی: اَللّٰھُمَّ لک الحمد کلہ، اللّٰھم لا مانع لما بسطت، ولا باسط لما قبضت، ولا ھادی لمن اضللت، ولا مُضلَّ لمن ھدَیتَ، ولا مُعطِیَ لما منعت، ولا مانع لما اعطیت، ولا مقرِّبَ لما باعدْتَّ، ولا مُباعِدَ لما قرَّبْتَ، اللّٰھمَّ ابْسُط علینا من برکاتکَ ورحمتک، وفضلک ورزقک، اللّٰھُمَّ انِّی اسألک النَّعیم یوم القیامۃ، والامن یوم الخوف، اللّٰھمَّ عائدٌ بکَ من شر ما اعطیتنا، وشر ما منعتنا، اللّٰھمَّ حَبِّبْ الینا الایمانَ، وزیِّنہُ فی قلوبِنا، وکرہ الینا الکفر والفسوق والعصیان، واجعلنا من الراشدین، اللّٰھمَّ توفَّنا مسلمیناَ، واَحیِنَا مُسلمین، واَلْحقنا بالصَّالحینَ، غَیرَ خزَایا، ولا مفتونینَ، اللّٰھمَّ قَاتِلِ الْکَفَرَۃَ الذین یکذِّبفون رُسُلَکَ، ویصُدُّونَ عن سبیلک، واجعلُ علیھم رجزَکَ وعذابَکَ الَہَ الحَق اے اللہ، تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ اے اللہ! تو جس کے لیے کشادگی کر دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس کو روک لے اس کو پھیلانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور جس کو تو بھٹکا دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو ہدایت دے دے اس کو کوئی بھٹکانے والا نہیں ہے۔ جس سے تو روک دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور جس کو تو دے دے، اس سے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو دور کر دے اس کو کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے۔ اور جس کو تو قریب کر لے اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمتیں، اپنا فضل اور اپنا رزق کھول دے۔ اے اللہ! میں قیامت کے دن تجھ سے نعمتوں کا اور خوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو تو نے ہمیں عطا فرمائی اور اس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روکی۔ اے اللہ! ہمیں ایمان سے محبت عطا فرما۔ اور ہمارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما: (اے اللہ!) ہمیں کفر، فسق اور گناہوں سے نفرت عطا کر۔ اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں وفات دے تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور زندہ رکھ تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور ہمیں نیک لوگوں میں شمار فرما۔ ہمیں رسوا نہ کر اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال۔ اے اللہ! کافروں کو ہلاک فرما جو تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ اے میرے معبود برحق ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1889]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1889 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، وعبيد بن رفاعة ثقة كما قال الذهبي في "تلخيصه"، على أنَّ بعضهم جزم بصحبته، كابن معين في رواية الدُّوري عنه، والطبراني وغيرهما، لكن الصحيح أنه ولد في عهد ¤ ¤ النبي ﷺ، وقد روى عنه جمع ووثقه العجلي وابن حبان، فمثله يُعدُّ ثقةً، ولهذا صحَّح حديثه هذا الحافظ في "نتائح الأفكار" 2/ 163، وأقرَّ الذهبيُّ المصنِّفَ هنا في "تلخيصه" بنظافة إسناده، لكنه استنكره وقال: أخاف أن يكون موضوعًا. ولا يُسلَّم للذهبي ذلك مع ثقة رجاله، وإخراج البخاري له في "الأدب المفرد"، وسكوت الأئمة المتقدمين عليه مع إخراجهم له.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ عبید بن رفاعہ ثقہ ہیں (ذہبی کے بقول)۔ بعض نے انہیں صحابی کہا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ وہ عہدِ نبوی میں پیدا ہوئے تھے۔ 📝 توضیح: حافظ ابن حجر نے اسے صحیح کہا، ذہبی نے اس کی سند کو "صاف" مانا مگر متن کو منکر سمجھ کر "موضوع" ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ لیکن ذہبی کی یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کیونکہ رجال ثقہ ہیں اور بخاری نے اسے "الادب المفرد" میں جگہ دی ہے۔
وسيأتي برقم (4354)، ويأتي تخريجه هناك.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ دوبارہ (4354) پر آئے گی اور وہاں اس کی تخریج ذکر ہوگی۔
(1) لفظة "صحيح" سقطت من (ز) و (ع)، وأثبتناها من (ص) و (ب).
📝 توضیح: لفظ "صحیح" بعض نسخوں سے ساقط تھا جسے دوسرے نسخوں سے بحال کیا گیا۔