المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
78. إن جبرائيل كان يدس فى فم فرعون الطين
جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں کیچڑ ڈالتے تھے
حدیث نمبر: 189
أخبرنا أحمد جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن عَدِيِّ بن ثابت وعطاءِ بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس؛ رَفَعَه أحدهما إلى النبي ﷺ:"إِنَّ جبريل كان يَدُسُّ في فم فِرعَونَ الطينَ مَخافة أن يقول: لا إله إلَّا الله" (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے اس ڈر سے کہ کہیں وہ «لا اله الا الله» نہ کہہ دے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 189]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 189 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح موقوفًا على ابن عباس، والراجح أنَّ الذي رفعه منهما هو عدي بن ثابت، وستأتي روايته منفردًا برقم (3342) من طريق النضر بن شميل عن شعبة عنه، وقد نُقل عن شعبة أنه قال فيه: كان رفاعًا. وذكر المصنف في الموضع المشار إليه أن أكثر أصحاب شعبة أوقفوه على ابن عباس. ورواية شعبة عن عطاء بن السائب قبل اختلاطه، فالإسناد صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: حضرت ابن عباس پر "موقوف" ہونے کی صورت میں یہ صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عدی بن ثابت نے اسے "مرفوع" بیان کیا ہے (نمبر 3342)، جبکہ شعبہ کے اکثر شاگردوں نے اسے موقوف رکھا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: چونکہ شعبہ نے عطاء بن السائب سے ان کے اختلاط سے پہلے سنا ہے، اس لیے یہ سند صحیح ہے۔
والحديث في "مسند أحمد" 4/ (2144) و 5 / (3154). وانظر تتمة الكلام عليه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "مسند احمد" (4/2144) اور (5/3154) میں موجود ہے، مزید تفصیل وہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
وأخرجه النسائي (1174)، وابن حبان (6215) من طريقين عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (1174) اور ابن حبان (6215) نے محمد بن جعفر کے دو مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اگلی بحث بھی ملاحظہ فرمائیں۔
وسيأتي بنحوه برقم (7827) من طريق علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس مرفوعًا. ¤ ¤ وعلي بن زيد -وهو ابن جُدعان- ضعيف.
📌 اہم نکتہ: اسی جیسی روایت آگے نمبر (7827) پر علی بن زید عن یوسف بن مہران عن ابن عباس کی سند سے مرفوعاً آئے گی۔ ⚖️ درجۂ حدیث: علی بن زید (ابن جدعان) ضعیف راوی ہے۔