المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
78. إن جبرائيل كان يدس فى فم فرعون الطين
جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں کیچڑ ڈالتے تھے
حدیث نمبر: 190
حدثنا أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا عَبْدانُ الأهوازي، حدثنا محمد بن عبد الأعلى، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، أخبرني عَدِيُّ بن ثابت وعطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن رسول الله ﷺ أنه ذكر:"أَنَّ جبريل جَعَلَ يَدُسُّ في فم فرعونَ الطينَ خَشْية أن يقول: لا إله إلَّا الله، فيرحمه الله"، أو قال:"خشية أن يرحمه الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 189 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 189 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے اس اندیشے سے کہ کہیں وہ «لا اله الا الله» نہ کہہ دے اور اللہ اس پر رحم فرما دے“، یا فرمایا: ”اس اندیشے سے کہ اللہ اس پر رحم نہ فرما دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 190]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 190]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 190 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح موقوفًا كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے کی صورت میں صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (3108) عن محمد بن عبد الأعلى بهذا الإسناد. وأشار إلى أن أحد الرجلين - أي عطاء بن السائب وعدي بن ثابت - ذكره عن النبي ﷺ، أي: مرفوعًا، والذي رفعه هو عدي بن ثابت كما تقدَّم، وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3108) نے محمد بن عبدالاعلیٰ کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند کے دو راویوں (عطاء اور عدی) میں سے ایک نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور عدی بن ثابت ہی وہ راوی ہیں جنہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي برقم (7826) من طريق يحيى بن حكيم عن خالد بن الحارث.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7826) پر یحییٰ بن حکیم کے طریق سے آئے گی۔