🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. الدعاء بعد أكل الطعام ولبس الثوب
کھانا کھانے اور کپڑا پہننے کے بعد کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1893
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنَان القَزّاز، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَاميّ، حدثنا عكرمة بن عمَّارٍ، قال: سمعتُ شدّادًا أبا عمار يحدِّثُ، عن شدَّادِ بن أوْسٍ - وكان بدريًّا - قال: بينما هُم في سَفَرٍ إذ نَزَلَ القومُ يَتصبَّحون، فقال شدّاد: أَدْنُوا هذه السُّفرة نَعبَثْ بها، ثم قال: أَستغفرُ الله، ما تكلمتُ بكلمةٍ منذ أسلمتُ إلَّا وأنا أَزُمُّها وأَخطِمُها قبلَ كلمتي هذه، ليس كذلك قال محمدٌ ﷺ، ولكن قال:"يا شدَّادُ، إذا رأيتَ الناسَ يَكنِزونَ الذَّهبَ والفضةَ فاكنِزْ هؤلاءِ الكلمات: اللهمَّ إِنِّي أسألُك التَّثبُّتَ في الأمور، وعزيمةَ الرُّشْد، وأسألكَ شُكرَ نعمتِك، وحُسنَ عبادَتِك، وأسألكَ قلبًا سليمًا، ولسانًا صادقًا، وخُلُقًا مستقيمًا، وأستغفرُكَ لما تعلم، وأسألك من خيرِ ما تعلمُ، وأعوذُ بكَ من شرِّ ما تعلمُ، إنَّك أنتَ علَّامُ الغُيوب" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں، آپ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ یہ لوگ سفر میں تھے کہ اہلِ قافلہ ناشتہ کرنے کے لیے دسترخوان پر جمع ہوئے (جب کھانا کھا چکے) تو شداد کہنے لگے: یہ دسترخوان سمیٹو! (کچھ دیر) گپ شپ کر لیں، پھر بولے: میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں اس وقت سے آج تک کبھی بھی کوئی بات بغیر سوچے سمجھے نہیں کی سوائے آج کی اس بات کے۔ (اس لیے میری اس بات کو محفوظ نہ رکھنا بلکہ جس بات کے بارے میں یہ وضاحت کر دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس کو محفوظ کر لیا کرو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں نہیں فرمایا بلکہ آپ علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے: اے شداد! جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا اور چاندی جمع کر رہے ہیں تو تم ان کلمات کا خزانہ جمع کرنا۔ اے اللہ میں تمام امور میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں اور ہدایت کی درخواست کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے نعمتوں کا شکر کرنے اور حسنِ عبادت (کی توفیق) مانگتا ہوں۔ اور میں تجھ سے سلامتی والا دل اور سچ بولنے والی زبان اور حسنِ خلق مانگتا ہوں۔ اور میں تجھ سے ان تمام چیزوں کی معافی مانگتا ہوں تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی مانگتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے بے شک تو ہی علامّ الغیّوب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1893]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1893 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد، محمد بن سنان القزاز وإن كان فيه ضعف فهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وحديثه هذا روي من غير وجه عن شداد بن أوس، وهي وإن كانت لا يخلو كلٌّ منها من مقال، إلّا أنه بمجموعها يتقوى الحديث. شداد أبو عمار: هو شداد بن عبد الله القرشي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: متابعات و شواہد کی بنیاد پر یہ سند "حسن" ہے۔ محمد بن سنان القزاز اگرچہ ضعیف ہے مگر شواہد میں اس کی حدیث حسن ہو جاتی ہے۔ شداد ابوعمار: یہ شداد بن عبداللہ القرشی ہیں۔
وأخرجه دون القصة التي في أوله البيهقي في "الدعوات" (243) عن محمد بن عبد الله الضبي، عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الدعوات" (243) میں ابتدائی قصے کے بغیر اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17114) من طريق حسان بن عطية، عن شداد بن أوس. وهذا إسناد منقطع، فحسان لم يسمع من شداد، لكن أخرجه ابن حبان (935) من وجه آخر عن حسان بن عطية عن مسلم بن مِشكم عن شداد بن أوس، فذكر الواسطة بينهما، لكن مسلم بن مشكم هذا ضعيف.
⚠️ سندی اختلاف: امام احمد (17114) نے اسے حسان بن عطیہ کے طریق سے روایت کیا جو کہ "منقطع" ہے کیونکہ حسان کا شداد سے سماع نہیں ہے۔ ابن حبان (935) نے درمیان میں "مسلم بن مشکم" کا واسطہ ذکر کیا ہے مگر وہ ضعیف ہے۔
ورواه مطولًا ومختصرًا سعيد بن إياس الجريري - وكان قد اختلط - فاضطرب فيه، فرواه مرةً عن أبي العلاء يزيد بن عبد الله بن الشخير عن رجل من بني حنظلة عن شداد بن أوس، كما أخرجه أحمد (17133)، والترمذي (3407)، ورواه مرةً عن أبي العلاء بن الشخير عن شداد، لم يذكر فيه الحنظلي، وهذا إسناد ضعيف أيضًا لاختلاط الجريري ولإبهام الرجل الحنظلي.
🔍 علّت / فنی نکتہ: سعید بن ایاس الجریری نے اسے روایت کیا مگر وہ اختلاط (یادداشت کی خرابی) کا شکار تھے اور مضطرب رہے۔ کبھی انہوں نے "رجل من بنی حنظلہ" کا مبہم واسطہ دیا اور کبھی نہیں۔ اس لیے یہ سند ضعیف ہے۔
وللحديث طرق أخرى غير هذه مذكورة في تعليقنا على "المسند" يتقوى الحديث بمجموعها، والله أعلم.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کے دیگر طرق ہم نے "المسند" کی تعلیق میں ذکر کیے ہیں جن کے مجموعے سے یہ حدیث قوی ہو جاتی ہے۔