المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. الدعاء لدفع الكرب
پریشانی دور کرنے کی دعا۔
حدیث نمبر: 1894
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا أسامة بن زيد، عن محمد بن كعبٍ القُرَظي، عن عبد الله بن شدَّاد، عن عبد الله بن جعفر، عن علي بن أبي طالبٍ قال: علَّمني رسولُ الله ﷺ إذا نَزَلَ بِي كَرْبٌ أن أقول:"لا إله إلَّا الله الحليمُ الكريم، سبحانَ الله، وتبارك اللهُ ربُّ العرش العظيم، والحمدُ لله ربِّ العالمين" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه لاختلافٍ فيه على الناقِلِين (1) ، وهكذا أقام إسنادَه محمدُ بن عَجْلان عن محمد بن كعب:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه لاختلافٍ فيه على الناقِلِين (1) ، وهكذا أقام إسنادَه محمدُ بن عَجْلان عن محمد بن كعب:
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ جب میں کسی آزمائش میں مبتلا ہوں تو یہ دعا مانگا کروں: ” لا الہ الّا اللّٰہُ الحلیم الکریم سبحان اللّٰہ، وتبارک اللّٰہُ ربُّ العرشِ العظیم، والحمدللّٰہ ربِّ العالمین “ ” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، وہ حلیم ہے، کریم ہے، اللہ کے لیے پاکی ہے اور اسی کی ذات برکت والی ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس لیے نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس میں ناقلین پر اختلاف ہے اور یونہی اس کی سند کو محمد بن عجلان نے محمد بن کعب کے واسطے سے قائم رکھا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1894]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1894 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أسامة بن زيد - وهو الليثي - وقد توبع.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند اسامہ بن زید اللیثی کی وجہ سے حسن ہے جن کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (701) عن روح بن عبادة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 2/ (701) نے روح بن عبادہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (10389) و (10390) من طريق أبان بن صالح، عن محمد بن كعب القرظي، به. ¤ ¤ وأخرجه النسائي (10388) و (10389) من طريق علي بن الحسين، عن ابنة عبد الله بن جعفر، عن أبيها، عن علي رفعه، وفيه قصة بين علي بن الحسين وعبد الله بن جعفر وابنته.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے محمد بن کعب القرظی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ایک دوسری روایت میں علی بن الحسین (امام زین العابدین) اور عبداللہ بن جعفر کے درمیان ایک قصہ بھی مروی ہے۔
وأخرجه النسائي (10394) من طريق ربعي بن حراش، عن عبد الله بن شداد، عن عبد الله بن جعفر، عن علي قوله، فذكره موقوفًا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: نسائی (10394) نے اسے ربعی بن حراش کے طریق سے "موقوفاً" (حضرت علی کا اپنا قول) روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي أيضًا موقوفًا من طريق ربعي بن حراش (10395) عن عبد الله بن شداد: أَنَّ عليًا قال لابن أخيه … فذكره، وبرقم (10396) من طريق ربعي أيضًا عن ابن شداد، عن علي أنه قال لابني جعفر … فذكره.
🧾 تفصیلِ روایت: نسائی نے اسے ربعی بن حراش ہی کے واسطے سے مزید دو جگہوں (10395 اور 10396) پر موقوفاً ذکر کیا ہے۔
وسيأتي بعده من طريق محمد بن عجلان عن محمد بن كعب القرظي، وبرقم (4721) من طريق عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عليٍّ مرفوعًا، مع اختلاف في بعض ألفاظه، وسيأتي الكلام عليها هناك.
🔁 تکرار: یہ روایت آگے محمد بن عجلان کے طریق سے اور پھر رقم (4721) پر الفاظ کے اختلاف کے ساتھ دوبارہ آئے گی۔
وله شاهد من حديث ابن عباس في "الصحيحين" كما سيشير إليه المصنف بإثر الحديث التالي.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد صحیحین میں حضرت ابن عباس کی حدیث سے موجود ہے جس کی طرف مصنف اشارہ کریں گے۔
وسلف هذا الذكر ضمن سياقة أخرى برقم (1214) من حديث عبد الله بن أبي أوفى بإسناد ضعيف جدًّا.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ذکر پہلے رقم (1214) پر حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ کی ایک سخت ضعیف سند سے گزر چکا ہے۔
(1) سيأتي بيان اختلاف الناقلين عند الحديث رقم (4721).
📝 توضیح: راویوں کے اختلاف کا بیان آگے حدیث (4721) پر آئے گا۔