🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. المؤمن مكفر
مومن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
أخبرنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمرْو، حدثنا الحارث ابن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا محمد بن عبد العزيز بن عبد الرحمن ابن عَوْف، حدثني حَسَن (1) بن عثمان بن عبد الرحمن بن عوف وعبد الرحمن بن حُميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن عامر بن سعد، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"المؤمنُ مُكفَّرٌ" (2) . قد اتَّفقا على عبد الرحمن بن حُميد بن عبد الرحمن. و
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه لجهالة محمد بن عبد العزيز الزُّهري هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 192 - غريب صحيح ما خرجاه لجهالة محمد
سیدنا عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جس کے گناہوں کا کفارہ (آزمائشوں کے ذریعے) ادا کر دیا جاتا ہے۔
امام بخاری و مسلم دونوں نے عبدالرحمن بن حمید بن عبدالرحمن سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے، ان دونوں نے اسے محمد بن عبدالعزیز زہری کے (حالات سے) ناواقفیت کی بنا پر روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، محمد بن عبد العزيز - وهو ابن عمر بن عبد الرحمن بن عوف الزهري - قال فيه البخاري: منكر الحديث، وقال النسائي: متروك الحديث، وذكره الدارقطني في "الضعفاء والمتروكين"، وليس مجهولًا كما قال الحاكم، بل المجهول جهالة حالٍ هو الحسن ابن عثمان بن عبد الرحمن، ومتابعة عبد ...» [ترقيم الرساله 193] [ترقيم الشركة 192] [ترقيم العلميه 192]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 193 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حسين، مصغرًا، والصواب، حسن، كما في مصادر ترجمته، منها "التاريخ الكبير" للبخاري 2/ 300، و"الجرح والتعديل" لابن أبي حاتم 13/ 25، و"الثقات" لابن حبان 4/ 123.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں نام "حسین" تحریف ہوا ہے، جبکہ درست نام "حسن" ہے جیسا کہ امام بخاری کی "تاریخ کبیر" اور ابن ابی حاتم کے ہاں درج ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًا، محمد بن عبد العزيز - وهو ابن عمر بن عبد الرحمن بن عوف الزهري - قال فيه البخاري: منكر الحديث، وقال النسائي: متروك الحديث، وذكره الدارقطني في "الضعفاء والمتروكين"، وليس مجهولًا كما قال الحاكم، بل المجهول جهالة حالٍ هو الحسن ابن عثمان بن عبد الرحمن، ومتابعة عبد الرحمن بن حميد -وهو ثقة- له هنا لا تفيد شيئًا، فإنَّ الراوي عنهما متروك الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: سند انتہائی ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن عبدالعزیز "منکر الحدیث" اور "متروک" راوی ہے۔ حسن بن عثمان بھی مجہول الحال ہے۔ امام حاکم کا انہیں مجہول کہنا درست نہیں کیونکہ ان کا حال غیر واضح ہے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (1129)، والخطابي في "غريب الحديث" 1/ 690 من طريق سهل ابن بكار، عن محمد بن عبد العزيز، عن الحسن بن عثمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار (1129) اور خطابی نے سہل بن بکار عن محمد بن عبدالعزیز کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7832) من طريق محمد بن سعد العوفي عن روح بن عبادة، ليس فيه قوله: "حدثني حسن بن عثمان بن عبد الرحمن بن عوف" فإن صحّ ما في النسخ الخطية، وإلَّا فإنَّ محمد بن سعد العوفي يكون قد أسقطه، فصار عبد الرحمن بن حميد قرينًا لمحمد بن عبد العزيز المتروك ومتابعًا له، والعوفي ليس بذاك القوي، ولا سيما وقد خالف الحارث بن أبي أسامة وهو حافظ ثقة.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7832) پر محمد بن سعد العوفی کے طریق سے آئے گی۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عوفی قوی راوی نہیں ہے، خصوصاً جب وہ حارث بن ابی اسامہ جیسے ثقہ حافظ کی مخالفت کرے۔
تنبيه: وقع في "غريب الحديث" للخطابي: عن الحسن بن عثمان عن الزهري، بزيادة "عن" ¤ ¤ وهو خطأ، فإنَّ الزهري هي نسبة الحسن نفسه، ووقع فيه أيضًا: سهل بن بكار ثنا الحسن بن عثمان، بإسقاط محمد بن عبد العزيز، وبناءً عليه وهم الشيخ ناصر الدين الألباني ﵀ في "السلسلة الصحيحة" (2367) فجعل طريق الخطابي متابعًا لطريق الحاكم، وهما في الحقيقة طريق واحد فيهما محمد بن عبد العزيز هذا.
🔍 فنی نکتہ / وہم: خطابی کی کتاب میں لفظ "عن" کا اضافہ غلطی ہے، زہری دراصل راوی کی نسبت ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اسی غلطی کی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ کو "سلسلہ صحیحہ" میں وہم ہوا اور انہوں نے خطابی کے طریق کو حاکم کا متابع سمجھ لیا، حالانکہ یہ ایک ہی سند ہے۔
قوله: "المؤمن مكفَّر" قال الخطابي: معناه: أنه مرزَّأٌ (أي: مصابٌ) في نفسه وأهله، وأنه لا يزال يُنكَب وتصيبه المكاره فتكون كفارةً لذنوبه.
📝 نوٹ / توضیح: "مومن کی نعمتوں کی ناشکری کی جاتی ہے" (المومن مکفّر) کا مطلب خطابی کے بقول یہ ہے کہ وہ اپنی جان اور اہل و عیال میں آزمائشوں کا شکار رہتا ہے اور یہ مصیبتیں اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں۔
وفسّره الدَّيلمي في "الفردوس" (6550) بأنَّ المؤمن يصطنع المعروف فلا يُشكَر، وبنحوه فسّره الهيثمي في "كشف الأستار عن زوائد البزار" (1907) فقال: يعني: تُكفَر نعمتُه لأنَّ ابن أبي الدنيا ذكر أحاديث مثل هذا في مثل هذا الباب.
📝 نوٹ / توضیح: دیلمی نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ مومن نیکی کرتا ہے مگر اس کا شکریہ ادا نہیں کیا جاتا (یعنی دنیا میں اجر نہیں ملتا)۔ علامہ ہیثمی نے بھی اسی سے ملتی جلتی تشریح کی ہے کہ اس کی نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 193 in Urdu