المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
80. الكيس من دان لنفسه وعمل لما بعد الموت
عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے
حدیث نمبر: 192
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدانُ، حدثنا عبد الله، أخبرنا أبو بكر بن أبي مريم الغسَّاني، عن ضَمْرة بن حبيب، عن شدَّاد بن أَوْس قال: قال رسول الله ﷺ:"الكيِّسُ من دان نفسَه وعَمِلَ لما بعد الموت، والعاجزُ من أتبع نفسه هواها، وتمنَّى على الله" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 191 - لا والله يعني ليس على شرط البخاري كما قال الحاكم أبو بكر واه
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 191 - لا والله يعني ليس على شرط البخاري كما قال الحاكم أبو بكر واه
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور عاجز (بیوقوف) وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ سے (بے جا) امیدیں وابستہ رکھے“۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 192]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم، وغالى الذهبي في "تلخيص المستدرك" فوصفه بأنه واهٍ- أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: لقب واسمه عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك-» [ترقيم الرساله 192] [ترقيم الشركة 191] [ترقيم العلميه 191]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 192 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم، وغالى الذهبي في "تلخيص المستدرك" فوصفه بأنه واهٍ. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: لقب واسمه عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوبکر بن ابی مریم کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: راویوں کی پہچان: ابوالوجہ (محمد بن عمرو فزاری)، عبدان (لقب، نام عبداللہ بن عثمان مروزی) اور عبداللہ (ابن مبارک) ہیں۔
وأخرجه أحمد 28 (17123)، والترمذي (2459) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور امام ترمذی (2459) نے ابن مبارک کی سند سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4260)، والترمذي (2459) من طريقين عن أبي بكر بن أبي مريم، به. وسيأتي عند المصنف برقم (7831).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ اور ترمذی نے ابوبکر بن ابی مریم کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ آگے نمبر (7831) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه ابن ماجه (4260)، والترمذي (2459) من طريقين عن أبي بكر بن أبي مريم، به. وسيأتي عند المصنف برقم (7831). ¤ وأحسن منه في هذا المعنى ما سيأتي برقم (8837) من حديث ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ سئل: أيُّ المؤمنين أكيسُ؟ فقال: "أكثرهم للموتِ ذكرًا، وأحسنهم له استعدادًا قبل أن ينزل بهم، أولئك من الأكياس". وإسناده حسن.
📌 اہم نکتہ: اسی معنی میں سب سے بہترین روایت حضرت ابن عمر کی نمبر (8837) پر آئے گی کہ سب سے عقل مند وہ ہے جو موت کو زیادہ یاد کرے اور اس کی تیاری کرے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
قوله: "من دان نفسه" معناه -كما قال الترمذي-: من حاسب نفسه في الدنيا قبل أن يُحاسب يوم القيامة.
📝 نوٹ / توضیح: "جس نے اپنے نفس کو قابو کیا" کا مطلب ہے کہ جس نے قیامت کے حساب سے پہلے دنیا میں اپنا محاسبہ کر لیا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 192 in Urdu