المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
66. الدعاء الجامع
جامع دعا۔
حدیث نمبر: 1932
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، حدثنا مُحرِز بن سَلَمة العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن سُهيل بن أبي صالح، عن موسى بن عُقبة، عن عاصم بن أبي عُبيد، عن أم سلَمة، عن النبي ﷺ، هذا ما سألَ محمدٌ ربَّه:"اللهمَّ إني أسألُك خيرَ المَسألة، وخيرَ الدُّعاء، وخيرَ النَّجاح، وخيرَ العمَل، وخيرَ الثَّواب، وخيرَ الحياة، وخيرَ المَمات، وثَبِّتني وثَقِّل مَوازِيني، وحَقِّق إيماني، وارفَع درجتي، وتَقبّل صلاتي، واغفِر خَطيئتي، وأسألُك الدرجاتِ العُلَى من الجنة، اللهمَّ إني أسألُك فَواتحَ الخيرِ وخواتِمَه وجَوامِعَه، وأولَه، وظاهرَه، وباطنَه، والدرجاتِ العُلى مِن الجنة، آمين. اللهمَّ إني أسألُك خيرَ ما آتي، وخيرَ ما أفعلُ، وخير ما أعملُ، وخيرَ ما بَطَنَ، وخيرَ ما ظَهَرَ، والدرجاتِ العُلَى من الجنة، آمين. اللهمَّ إني أسألُك أن ترفعَ ذِكْري، وتَضَعَ وِزْري، وتُصلِحَ أمري، وتُطهِّرَ قلبي، وتُحصِّن فَرْجي، وتُنوِّر لي قلبي، وتَغفِر لي ذَنبي، وأسألُك الدرجاتِ العُلى من الجنة، آمين. اللهمَّ إني أسألُك أن تُبارك لي في نَفْسي، وفي سَمْعي، وفي بصري، وفي رُوحي، وفي خَلْقي وفي خُلُقي، وأهلي، وفي مَحْيَاي، وفي مَماتي، وفي عَمَلي، وتقبّل حَسناتي، وأسألُك الدرجاتِ العُلَى من الجنة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اُمّ المؤمنین سیدنا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتی ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ ہے: ” اللھم انّی اسالک خیر المسالۃ، وخیر الدعاء، وخیر النجاح، وخیر العمل، وخیر الثواب، وخیر الحیاۃ، وخیر الممات، وثبتنی وثقل موازینی، وحقق ایمانی، وارفع درجاتی، وتقبل صلاتی، واغفر خطیئتی، واسالک الدرجات العلی من الجنّہ، اللّٰھم انی اسألک فواتح الخیر وخواتمہ، وجوامعہ، واولہ، وظاھرہ وباطنہ، والدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین، اللھم انی اسٔلک خیر ما اٰتی، وخیر ما افعل، وخیر ما اعمل، وخیر ما بطن، وخیر ما ظھر، والدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین، اللھم انی اساَلک ان ترفع ذکری، وتضع وزری، وتصلح امری، وتطھر قلبی، وتحصن فرجی، وتنورلی قلبی، وتغفرلی ذنبی، واساَلک الدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین، اللھم انّی اسَلک ان تبارک لی فی نفسی، وفی سمعی، وفی بصری، وفی روحی، وفی خلقی، وفی خلقی، وفی اھلی، وفی محیای، وفی مماتی، وفی عملی، فتقبّل حسناتی، واساَلک الدرجات العلٰی من الجنّۃ اٰمین۔ “ ” اے اللہ! میں تجھ سے اچھے سوال، اچھی دعا، اچھی کامیابی، اچھا ثواب، اچھے عمل، اچھی زندگی اور اچھی موت کا سوال کرتا ہوں اور مجھے ثابت قدم رکھ اور میرے میزان کو بھاری کر اور میرے ایمان کو پختہ کر، میرے درجات بلند فرما اور میری نماز کو قبول فرما، میری خطائیں معاف کر اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجہ کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے اعمال و افعال اور ظاہر و باطن کی بھلائی مانگتا ہوں اور جنت کے اعلیٰ درجے کی بھلائی مانگتا ہوں، یا اللہ قبول فرما اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرا ذکر اونچا کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت فرما اور میرے دل کو منور کر دے اور میرے گناہ معاف فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجے کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ! قبول فرما، اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے نفس میں، میری سماعت میں، میری بصارت میں، روح میں اور میری تخلیق میں، میرے اخلاق میں، میرے اہل و عیال میں، میری زندگی میں، میری وفات میں اور میرے عمل میں برکت عطا فرما، میری نیکیاں قبول فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجوں کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ! قبول فرما۔ ٭یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1932]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1932 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين من أجل عاصم بن أبي عُبيد، فهو - وإن لم يرو عنه غير موسى بن عقبة - تابعي كان يدخل على زينب بنت أم سلمة وعلى أم سلمة كما وصفه موسى بن عقبة مرةً، وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ سند عاصم بن ابی عبید کی وجہ سے "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے، ابن حبان نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 23/ (717)، وفي "الأوسط" (6218)، وفي "الدعاء" (1422)، والبيهقي في "الدعوات" (256) و (257) من طرق عن عبد العزيز بن أبي حازم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی اور بیہقی نے عبدالعزیز بن ابی حازم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔