المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
97. مسح الوجه باليدين بعد الدعاء
دعا کے بعد ہاتھوں سے چہرہ پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1988
أخبرني أبو الحسن محمد بن الحسن، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجِيَة، حدثنا نصر بن علي ومحمد بن موسى الحَرَشِي، قالا: حدثنا حماد بن عيسى، حدثنا حَنْظَلة بن أبي سفيان، قال: سمعتُ سالم بن عبد الله يُحدِّث، عن أبيه عبد الله بن عمر، عن عمر: أنَّ رسولَ الله ﷺ كان إذا مَدَّ يدَيه في الدعاء، لم يَرُدَّهما حتى يَمسَحَ بهما وجهَه (4) . وقد رُويَ عن عبد الله بن عباس:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں اپنے ہاتھوں کو بلند کیا کرتے تھے پھر اپنے چہرے پر پھیرتے ہوئے نیچے کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1988]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1988 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده ضعيف جدًّا، حمّاد بن عيسى الجهني متفق على ضعفه، وغالى المصنف نفسه في كتابه "المدخل إلى الصحيح" 1/ 158 فقال فيه: دجّال يروي أحاديث موضوعة، وقال أبو زرعة الرازي فيما نقله عنه ابن أبي حاتم في "العلل" (2106): حديث منكر أخاف أن لا يكون له أصل. وقال الذهبي في "السير" 16/ 67: أخرجه الحاكم في "مستدركه" فلم يُصب، حماد ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "شدید ضعیف" ہے۔ حماد بن عیسیٰ الجہنی کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ 👤 راوی پر جرح: مصنف نے خود اسے "دجال" اور "وضاع" کہا ہے۔ ابو زرعہ نے اسے "منکر" کہا جس کی کوئی اصل نہیں۔ امام ذہبی نے بھی حاکم کی تصحیح کو غلط قرار دیا۔
وأخرجه الترمذي (2386) عن جماعة من شيوخه، عن حماد بن عيسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2386) نے حماد بن عیسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلَّا من حديث حماد بن عيسى، وقد تفرَّد به، وهو قليل الحديث … ¤ ¤ وفي الباب عن يزيد أبي السائب بن يزيد عند أحمد 29/ (17943)، وأبي داود (1492)، وإسناده ضعيف لجهالة راوٍ فيه، وسوء حفظ ابن لهيعة راويه عنه، ومخالفة في متنه كما هو مبيّن عند أحمد.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "غریب" کہا ہے کیونکہ حماد اسے اکیلا روایت کرتا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں یزید ابوالسائب کی حدیث بھی ہے لیکن اس کی سند میں جہالت اور ابن لہیعہ کا سوء حفظ پایا جاتا ہے۔
وعن ابن عباس كما سيأتي بعده، وإسناده ضعيف جدًّا.
🧩 متابعات و شواہد: ابن عباس سے مروی شاہد کی سند بھی "شدید ضعیف" ہے۔
وقد تساهل الحافظُ ابن حجر فحسَّن الحديثَ في "بلوغ المرام" (1553) و (1554) بمجموع هذه الشواهد التي لا تصلح للاعتبار!
📌 تحقیقی دفاع: حافظ ابن حجر نے "بلوغ المرام" میں ان شواہد کی بنیاد پر اسے "حسن" قرار دینے میں تساہل (نرمی) سے کام لیا ہے، جبکہ یہ شواہد اس قابل نہیں کہ تقویت کا باعث بنیں۔