المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
96. رفع اليدين عند الدعاء
دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1987
حدَّثَناهُ إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن سعد بن أبي وقاص، قال: مَرَّ النبي ﷺ بي وأنا أدعو بأصابعي (1) ، فقال:"أحِّدْ أحِّدْ" وأشارَ بالسَّبّابة (2) .
هذا حديث صحيح بالإسنادين جميعًا، فأما حديث أبي معاوية، فهو صحيح على شرطهما إن كان أبو صالح السَّمّان سمع من سعد (3) .
هذا حديث صحيح بالإسنادين جميعًا، فأما حديث أبي معاوية، فهو صحيح على شرطهما إن كان أبو صالح السَّمّان سمع من سعد (3) .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو میں اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا مانگ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک، ایک (یعنی صرف ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کرو) ٭٭ اس حدیث کی دونوں سندیں صحیح ہیں۔ لیکن اگر ابوصالح سمان کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے تو سیدنا ابومعاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1987]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1987 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذلك جاء في أصول "المستدرك": بأصابعي، بصيغة الجمع، مع أنَّ سائر من خرَّج هذا الحديث ذكر هذا الحرف بصيغة المثنَّى، والتعبير عن المثنى بصيغة الجمع جائز في لغة العرب، كما في قوله تعالى: ﴿فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾.
📝 توضیح: مستدرک کے اصول میں "بأصابعي" (جمع) آیا ہے جبکہ دیگر تمام محدثین نے "تثنیہ" (دو انگلیوں) کا ذکر کیا ہے، عربی لغت میں تثنیہ کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرنا جائز ہے جیسے قرآن میں "قُلُوبُكُمَا" آیا ہے۔
(2) إسناده صحيح، وقد اختُلف فيه على الأعمش اختلافًا لا يضرُّ مثله كما تقدم. الأعمش: هو سليمان بن مِهران، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، ويحيى بن يحيى: هو النيسابُوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، اعمش پر ہونے والا اختلاف نقصان دہ نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اعمش سلیمان بن مہران ہیں اور ابو معاویہ محمد بن خازم ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1499)، والنسائي (1197) من طريقين عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداود (1499) اور نسائی (1197) نے دو مختلف طریق سے روایت کیا ہے۔
(3) ذكر المزي في ترجمة أبي صالح من "تهذيب الكمال" 8/ 513 أنه سأل سعدًا عن مسألة في الزكاة، وأنه شهد يوم الدار زمن عثمان، وصرَّح الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 5/ 36 أنه سمع منه، وذكر أنَّ أبا صالح ولد في خلافة عمر.
📌 اہم نکتہ: امام مزی اور ذہبی نے تصریح کی ہے کہ ابو صالح السمان نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو دیکھا ہے اور ان سے سماع بھی کیا ہے، ان کی پیدائش دورِ فاروقی میں ہوئی تھی۔