🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
108. المنجيات الباقيات الصالحات
نجات دینے والی باقیاتِ صالحات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2011
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي جعفر الخَطْمي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن أبي هريرة، قال: كان فيكُم أمانانِ، مضتْ إحداهُما وبقيتِ الأخرى: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الأنفال: 33] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد اتفقا على أنَّ تفسير الصحابي حديثٌ مُسنَدٌ (2) . وله شاهدٌ عن أبي موسى الأشعَري:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تمہارے اندر دو امان تھے، ان میں سے ایک گزر چکا ہے اور اب صرف ایک باقی ہے (ایک امان یہ تھا) وما کان اللّٰہ لیعذِّبَھم (اور دوسرا امان یہ ہے): وما کان اللّٰہ معذبھم وھم یستغفرون ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی تفسیر حدیث مسند کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے منعقول ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2011]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2011 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو جعفر الخَطْمي: هو عُمير بن يزيد الأنصاري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو جعفر الخطمی سے مراد عمیر بن یزید الانصاری ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (645) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (645) میں امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
(2) انظر الكلام على هذه المسألة فيما تقدَّم برقم (73).
📌 اہم نکتہ: اس مسئلے کی تفصیلی بحث نمبر (73) پر گزر چکی ہے۔