🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
119. الدعاء إذا أتى فراشه
جب آدمی اپنے بستر پر آئے تو پڑھی جانے والی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2025
أخبرنا علي بن عبد الرحمن السَّبيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا خالد بن مَخلَد، حدثنا يوسف بن عبد الرحمن، حدثني سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا أتى أحدُكم فِراشَه فليقُل: اللهمَّ ربَّ السماوات وربَّ الأرض، ربَّنا وربَّ كلِّ شيء أنت آخِذٌ بِناصِيَتِه، أنتَ الأولُ فليس قبلَك شيءٌ، وأنت الآخِرُ فليس بعدَك شيءٌ (1) ، وأنت الباطِنُ فليس دُونَك شيءٌ، أغنِنا مِن الفقرِ واقضِ عنا الدَّين" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3) ، ويوسُف هذا هو الذي يقال له: مولى سُكّرة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو اسے یہ کہنا چاہیے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، أَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ وَاقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب، ہمارے اور ہر چیز کے رب، تو ہی سب کی پیشانی سے پکڑنے والا ہے، تو ہی اول ہے پس تجھ سے پہلے کچھ نہیں، اور تو ہی آخر ہے پس تیرے بعد کچھ نہیں، تو ہی پوشیدہ ہے پس تیرے سوا کوئی (اسرار کا جاننے والا) نہیں، ہمیں فقر سے غنی کر دے اور ہمارا قرض ادا کر دے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس روایت کے راوی یوسف وہی ہیں جنہیں مولٰی سکرہ کہا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن عبد الرحمن مولى سُكّرة، وذكر ابنُ عديّ في "الكامل" 3/ 35 أنَّ لخالد بن مخلد - وهو القَطَواني - عنه نسخةً يرويها عن العلاء بن عبد الرحمن الحُرَقي مولاهم. وفي طبقته رجلٌ بهذا الاسم ذكره ابنُ أبي حاتم في "الجرح والتعديل"، وذكر ...» [ترقيم الرساله 2025] [ترقيم الشركة 2009]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2025 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في سائر مصادر تخريج الحديث في هذا الدعاء زيادة: "وأنت الظاهر فليس فوقك شيءٌ".
📝 توضیح: اس دعا کے دیگر تمام مصادر میں یہ الفاظ بھی زائد ہیں: "اور تو ہی ظاہر ہے، پس تیرے اوپر کچھ نہیں۔"
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن عبد الرحمن مولى سُكّرة، وذكر ابنُ عديّ في "الكامل" 3/ 35 أنَّ لخالد بن مخلد - وهو القَطَواني - عنه نسخةً يرويها عن العلاء بن عبد الرحمن الحُرَقي مولاهم. وفي طبقته رجلٌ بهذا الاسم ذكره ابنُ أبي حاتم في "الجرح والتعديل"، وذكر عن أبيه أبي حاتم أنه حدَّث بحديثين كذبٍ لا أصل لهما، ولعله يكون هو نفسُه، والله أعلم. وعلى أي حالٍ فهو متابَع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، مگر یہ مخصوص سند یوسف بن عبد الرحمن کے مجہول ہونے کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ابن ابی حاتم کے بقول ان کے والد نے اس نام کے ایک راوی کو کذاب کہا ہے، تاہم دیگر معتبر متابعات کی وجہ سے حدیث صحیح ہے۔
وأخرجه بتمامه أحمد 14/ (8960) و 15/ (9247) و 16/ (1924)، ومسلم (2713)، وأبو داود (5051)، وابن ماجه (3873)، والترمذي (3400)، والنسائي (7621) و (7667) و (10558)، وابن حبان (5537) من طرق عن سهيل بن أبي صالح، به. وبعضهم يجعله من دعائه ﷺ هو نفسُه بذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم، احمد، ابوداود اور ابن ماجہ وغیرہ نے سہیل بن ابی صالح کے طریق سے مکمل روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (4796) من طريق سليمان الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے نمبر (4796) پر سلیمان الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرہ کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه بتمامه أيضًا مسلم (2713)، وابن ماجه (3831)، والترمذي (3481)، والنسائي (7622)، وابن حبان (966) من طريق سليمان الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: أتت فاطمةُ النبيَّ تسأله خادمًا، فقال لها: "قولي: اللهم رب السماوات … " فذكر الدعاء بمثل رواية سهيل عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (2713)، ابن ماجہ (3831)، ترمذی (3481)، نسائی (7622) اور ابن حبان (966) نے سلیمان الاعمش کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب خادم کا سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں یہ دعا ("اللهم رب السماوات...") سکھائی۔
(3) بل قد أخرجه مسلم كما تقدم، ونبَّه على ذلك الذهبي في "تلخيصه".
📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا یہ کہنا کہ اسے بخاری و مسلم نے روایت نہیں کیا درست نہیں، بلکہ امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے جیسا کہ امام ذہبی نے بھی "تلخیص" میں توجہ دلائی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2025 in Urdu