🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. التعوذ عند الفزع
گھبراہٹ کے وقت اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2033
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدثنا عُبيد الله بن عمر، حدثنا جَرير بن عبد الحميد، عن محمد بن إسحاق، عن عَمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جدِّه، عن عبد الله - وهو ابن عَمرو - قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يأمُرُ بكلماتٍ من الفَزَع:"أعوذُ بكلماتِ الله التامّات من غَضَبِه ومن عِقابِه، ومن شَرِّ عباده، ومن هَمَزاتِ الشياطينِ وأن يَحضُرونِ". قال: فكان عبد الله بن عَمرٍو مَن بَلَغَ من ولده عَلَّمَهن إياه، فقالهنَّ عند نومِه، ومن لم يَبلُغْ منهم كَتَبها فعَلَّقَها في عُنُقِه (1)
هذا حديث صحيح الإسناد مُتّصلٌ في موضع الخِلاف.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ دور کرنے کے لیے یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے: اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ ومن عقابہ ومن شرِّ عبادہ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون۔ میں اللہ تعالیٰ کے نام کلمات کے ساتھ پناہ حاصل کرتا ہوں، اس کی ناراضگی، اس کے عذاب، اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کی سازشوں سے اور ان کے حاضر ہونے سے۔ عمرو بن شعیب فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی یہ عادت تھی کہ سمجھدار بچوں کو یہ کلمات سکھا دیا کرتے تھے اور ناسمجھ بچوں کے لیے ایک کاغذ پر لکھ کر تعویز بنا کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اختلاف کے مقام پر متصل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2033]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2033 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم لولا عنعنةُ محمد بن إسحاق، وما وقع في إسناد المصنِّف من قوله: عن جده عن عبد الله بن عَمرو، فهو غريب، وقد وقع مثلُه في رواية ابن بطة العُكْبَري في "الإبانة" 5/ 258 - 259 من طريق يوسف بن موسى عن جرير بن عبد الحميد، وقال ضياء الدين المقدسي فيما نقله عنه الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 5/ 112: أظن "عن" (يعني في قوله: عن عبد الله) فيه زائدة، وإلّا فيكون من رواية محمد (يعني ابن عبد الله بن عمرو بن العاص) عن أبيه. قال الذهبي: عمرو بن شعيب لا يعني بجده إلَّا جده الأعلى عبد الله ﵁، وقد جاء مصرَّحًا به في غير حديثٍ، يقول: عن جدِّه عبد الله، فهذا ليس بمرسل، وقد ثبت سماع والده شعيب من جده عبد الله بن عمرو، وما علمنا بشعيب بأسًا، رُبِّي يتيمًا في حجر جدّه عبد الله، وسمع منه، وسافر معه … وما أدري هل حفظ شعيب شيئًا من أبيه أم لا؟ وأنا عارف بأنه لازم جدَّه وسمع منه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنی شواہد کی بنا پر "صحیح لغیرِہ" ہے۔ محمد بن اسحاق کی "عنعنہ" کے علاوہ اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں۔ مصنف (حاکم) کی سند میں "عن جدہ عن عبد اللہ بن عمرو" کے الفاظ غریب ہیں۔ امام ذہبی کے مطابق عمرو بن شعیب جب "عن جدہ" (اپنے دادا سے) کہتے ہیں تو اس سے مراد ان کے پردادا عبد اللہ بن عمرو بن العاص ہی ہوتے ہیں۔ شعیب کا اپنے دادا عبد اللہ سے سماع ثابت ہے کیونکہ وہ ان کی گود میں یتیم پلے اور ان کے ساتھ سفر بھی کیا۔
قلنا: لم يقع ذلك إلّا عند المصنف وابن بطة، وعند غيرهما ممن خرَّج الحديثَ: عن جده، لم يزيدوا على ذلك، وهذا يدلُّ على وهم ما وقع في رواية المصنّف وابن بطة.
🔍 فنی نکتہ: یہ (سند میں ابن عمرو کا صراحت سے ذکر) صرف مصنف اور ابن بطہ کے ہاں ہوا ہے، جبکہ دیگر محدثین نے صرف "عن جدہ" نقل کیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف کی روایت میں یہاں وہم (غلطی) واقع ہوئی ہے۔
وقد أخرجه البيهقي في "الدعوات الكبير" (429) من طريق المصنّف هذه، ثم قال بعد قوله: عن عبد الله: كذا وجدتُه في كتابي!
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الدعوات الکبیر" (429) میں مصنف ہی کے طریق سے روایت کیا اور پھر (سند پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے) کہا: "میں نے اپنی کتاب میں اسے اسی طرح پایا ہے!"
وأخرجه أحمد 11/ (6696)، وأبو داود (3893)، والترمذي (3528)، والنسائي (10533) من طرق عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن شعيب عن أبيه، عن جده. وقال الترمذي: حديث حسنٌ غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداود، ترمذی اور نسائی نے محمد بن اسحاق عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
وأخرجه النسائي (10534) عن عمران بن بكار، عن أحمد بن خالد الوهبي، عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: كان خالد بن الوليد بن المغيرة رجلًا ¤ ¤ يَفْزع في منامه، فذكر ذلك لرسول الله ﷺ، فقال له النبي ﷺ: "إذا اضطجعت فقل: باسم الله، أعوذ … فذكره، فقالها، فذهب ذلك عنه. كذا وقع في هذه الرواية قصة الحديث المذكور وأنَّ صاحب القصة هو خالد بن الوليد.
🔍 فنی نکتہ: امام نسائی کی ایک روایت میں اس دعا کا پس منظر یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت خالد بن ولید نیند میں گھبرا جاتے تھے، تو آپ ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی: "باسم اللہ، میں اللہ کے کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں..."
لكن خالف عمرانَ بنَ بكار جماعةٌ آخرون عند البخاري في "خلق أفعال العباد" (440)، وأبي نعيم في "معرفة الصحابة" (6509)، وابن عبد البر في "التمهيد" 24/ 109، وابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 119، فرووه عن أحمد بن خالد الوهبي، عن ابن إسحاق، به فذكروا القصة، لكنهم ذكروا أنَّ صاحب القصة هو الوليد بن الوليد بن المغيرة، وليس أخاه خالد بن الوليد، وكأنَّ هذا هو الأشبه، فقد روى قصة الوليد بن الوليد هذه مع الدعاء المذكور جماعةٌ من الحفاظ عن يحيى بن سعيد الأنصاري عن محمد بن يحيى بن حَبّان مرسلًا، منهم شعبةُ عند أحمد 27/ (1657)، وابن السني في "عمل اليوم والليلة" (638)، وعبدُ الرحيم بنُ سليمان عند ابن أبي شيبة 8/ 160 و 10/ 362، ويحيى بنُ سعيد القطانُ عند مسدّد بن مُسرهد في "مسنده" كما في "إتحاف الخِيَرة المهرة" للبوصيري (6094/ 1) وسليمانُ بنُ بلال عند البيهقي في "الأسماء والصفات" (406)، ويزيدُ بنُ هارون عند الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 112. كلهم ذكر أنَّ صاحب القصة هو الوليد بن الوليد. وقال الحافظ هذا مرسل صحيح الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: محدثین کی ایک جماعت نے اس قصے کا صاحبِ معاملہ "ولید بن ولید" کو قرار دیا ہے، جو کہ حضرت خالد بن ولید کے بھائی تھے۔ حافظ ابن حجر کے مطابق یہی بات زیادہ درست لگتی ہے، کیونکہ حفاظ کی ایک بڑی جماعت (شعبہ، یحییٰ قطان وغیرہ) نے اسے مرسل صحیح سند کے ساتھ ولید بن ولید ہی کے نام سے روایت کیا ہے۔
وخالفهم مالك بن أنس وحده في "الموطأ" 2/ 950 فرواه عن يحيى بن سعيد الأنصاري قال: بلغني أنَّ خالد بن الوليد … فذكر القصة، فجعل صاحب القصة خالد بن الوليد، والقول قول الجماعة الذين جعلوها لأخيه الوليد بن الوليد.
🔍 سندی بحث: امام مالک نے "موطا" میں اکیلے اسے خالد بن ولید کے نام سے روایت کیا ہے، مگر جمہور محدثین کی رائے ولید بن ولید کے حق میں ہے، اور وہی قول معتبر ہے۔
ورواه أيوب بن موسى عند مسدَّد في "مسنده" كما في "إتحاف الخيرة" (6203)، وابن السني (750)، وابن عبد البر في "التمهيد" 24/ 109، وابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 111، حيث رواه سفيان بن عيينة، عن أيوب بن موسى، عن محمد بن يحيى بن حَبَّان، فذكر القصة لخالد بن الوليد، ولعلّه وهمٌ من أحد الرواة، والله أعلم.
🔍 سندی بحث: ایوب بن موسیٰ کی ایک روایت میں بھی خالد بن ولید کا نام آیا ہے، مگر یہ غالباً کسی راوی کا وہم ہے۔
وقد رُوي عن خالد بن الوليد من عدة روايات انه كان يفزع أيضًا، لكن وقع فيها جميعًا أنَّ النبي ﷺ علّمه لدفع ذلك دعاءً آخر غير هذا الدعاء الذي علمه لأخيه الوليد بن الوليد، وهو: "أعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بَرٌّ ولا فاجر، من شرِّ ما ينزل من السماء ومن شَرِّ ما يعرُج فيها، ومن شرِّ ما ذرأ في الأرض، ومن شرِّ ما يخرج منها، ومن شرِّ طوارق الليل والنهار، ومن شرِّ كل طارق يطرُق، إلّا طارقًا يطرق بخير، يا رحمن". فلعلَّ هذا هو منشأ الوهم لدى الذين جعلوا صاحب قصة الدعاء في حديث عمرو بن شعيب وغيره خالدَ بنَ الوليد، فكأنه دخل لهم حديثٌ في حديثٍ، والله تعالى أعلم. ¤ ¤ إذًا فمرسل محمد بن يحيى بن حَبّان شاهدٌ لحديث عمرو بن شعيب الذي بأيدينا، وهو مرسل صحيح الإسناد كما قال الحافظ، فيصحُّ به حديثُ عمرو بن شعيب، وقد قال ابنُ عبد البر في "التمهيد" 24/ 109: هذا حديثٌ مشهورٌ مسندًا وغير مسندٍ.
🧩 وضاحت: حضرت خالد بن ولید سے متعلق دیگر روایات میں بھی ان کے ڈرنے کا ذکر ہے، مگر وہاں آپ ﷺ نے انہیں ایک مختلف اور طویل دعا سکھائی تھی: "أعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر..."۔ ایسا لگتا ہے کہ راویوں کو ان دو الگ الگ قصوں اور دعاؤں میں خلط ملط ہو گیا، جس کی وجہ سے انہوں نے عمرو بن شعیب والی دعا بھی خالد بن ولید سے منسوب کر دی۔ بہر حال، یہ حدیث دیگر مرسل شواہد کی بنا پر "صحیح" ہے۔
ويشهد له أيضًا مرسلُ محمد بن المنكدر عند ابن السني (747)، وإسناده يصلح في المتابعات والشواهد.
🧩 متابعات و شواہد: محمد بن المنکدر کی مرسل روایت (ابن السنی) بھی اس کے لیے شاہد ہے جو متابعات میں پیش کی جا سکتی ہے۔
قوله: "همزات الشياطين"، أي: خَطَراتُها التي تُخطِرها بقلب الإنسان.
📝 توضیح: "ہمزات الشیاطین" سے مراد شیطان کے وہ وسوسے اور خطرات ہیں جو وہ انسان کے دل میں ڈالتا ہے۔
وقوله: "وأن يَحضُرون": معناه: أن يُصيبُوني بشرٍّ.
📝 توضیح: "وأن یحضرون" کا مطلب ہے کہ وہ (شیاطین) مجھے کسی قسم کا نقصان پہنچانے کے لیے میرے پاس حاضر ہوں۔
وكلمات الله التامة: يحتمل أن يريد به أنَّه لا يدخلها نقص وإن كان كلمات غيره يدخلها النقص. ويحتمل أن يريد به الفاضلة، يقال: فلان تامٌّ وكاملٌ، أي: فاضل. ويُحتمل أن يريد به الثابت حكمُها كما في قوله تعالى: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا﴾.
📝 توضیح: "کلمات اللہ التامہ" سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی نقص نہیں، یا وہ کلام جو فضیلت والا ہے، یا وہ کلام جس کا حکم اٹل ہے جیسا کہ قرآن میں بنی اسرائیل کے حق میں کلمہ خیر کے پورا ہونے کا ذکر ہے۔