المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
124. التَّعَوُّذُ عِنْدَ الْفَزَعِ
گھبراہٹ کے وقت اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2033
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدثنا عُبيد الله بن عمر، حدثنا جَرير بن عبد الحميد، عن محمد بن إسحاق، عن عَمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جدِّه، عن عبد الله - وهو ابن عَمرو - قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يأمُرُ بكلماتٍ من الفَزَع:"أعوذُ بكلماتِ الله التامّات من غَضَبِه ومن عِقابِه، ومن شَرِّ عباده، ومن هَمَزاتِ الشياطينِ وأن يَحضُرونِ". قال: فكان عبد الله بن عَمرٍو مَن بَلَغَ من ولده عَلَّمَهن إياه، فقالهنَّ عند نومِه، ومن لم يَبلُغْ منهم كَتَبها فعَلَّقَها في عُنُقِه (1)
هذا حديث صحيح الإسناد مُتّصلٌ في موضع الخِلاف.
هذا حديث صحيح الإسناد مُتّصلٌ في موضع الخِلاف.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ دور کرنے کے لیے یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے:” اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ ومن عقابہ ومن شرِّ عبادہ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون۔” میں اللہ تعالیٰ کے نام کلمات کے ساتھ پناہ حاصل کرتا ہوں، اس کی ناراضگی، اس کے عذاب، اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کی سازشوں سے اور ان کے حاضر ہونے سے۔ “ عمرو بن شعیب فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی یہ عادت تھی کہ سمجھدار بچوں کو یہ کلمات سکھا دیا کرتے تھے اور ناسمجھ بچوں کے لیے ایک کاغذ پر لکھ کر تعویز بنا کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اختلاف کے مقام پر متصل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2033]
حدیث نمبر: 2034
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزّاز، حدثنا مُعاذ بن فَضَالة، حدثنا هشامٌ صاحب الدَّسْتُوائي، حدثنا أبو الزُّبير، عن جابر، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"إذا أَوَى أحدُكم إلى فِراشِه ابتدَرَه مَلَكٌ وشيطانٌ، يقول الشيطانُ: افتح بشَرٍّ، ويقول المَلَك: افتَحْ بخَيرٍ، فَإِن ذَكَرَ اللهَ ذهبَ الشيطانُ وباتَ الملكُ يَكلؤُه، وإذا استيقظ ابتدَرَه مَلَكٌ وشيطانٌ، يقول الشيطان: افتح بشَرٍّ، ويقول المَلَك: افتح بخَيرٍ، فإن قال: الحمدُ لله الذي رَدَّ إِليَّ نَفْسي بعد مَوتها ولم يُمِتْها في نومها، الحمدُ لله الذي يُمسِكُ السماءَ أن تَقعَ على الأرضِ إِلَّا بِإِذنِهِ، إِنَّ الله بالناس لرؤوفٌ رحيمٌ، الحمدُ لله الذي يُحيي الموتى وهو على كلّ شيءٍ قديرٌ، فإن خَرَّ مِن دابَّةٍ مات شهيدًا، وإن قام فصلَّى صلَّى في الفَضائلِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب سونے کے لیے بستر پر آتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کی جانب دوڑ کر آتے ہیں، شیطان اس کو کہتا ہے: گناہ شروع کر، فرشتہ کہتا ہے: نیکی کا آغاز کر۔ پھر اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو شیطان چلا جاتا ہے اور اس کی جان چھوڑ دیتا ہے اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کی طرف دوڑ کر آتے ہیں۔ شیطان کہتا ہے: گناہ شروع کر اور فرشتہ کہتا ہے کہ نیکی شروع کر پھر اگر وہ یوں کہے:” الحمدللّٰہ الذی ردّ الی نفسی بعد موتھا ولم یمیتھا فی منامھا، الحمدللّٰہ الذی یمسک السماء ان تقع علی الارض الّا باِذنہ، انّ اللّٰہ بالناس لرؤوف رحیم، الحمدللّٰہ الذی یحیی الموتی وھو علیٰ کل شیئٍ قدیرٌ۔ ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے مرنے کے بعد میری روح مجھ میں لوٹائی اور مجھے نیند کی حالت میں موت نہیں دی۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکا ہوا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ بے شک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چاہت پر قادر ہے۔ “ اگر وہ جانور سے گر جائے تو شہید ہے اور اگر وہ نماز میں مشغول ہو جائے، تو وہ فضائل میں نماز پڑھتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2034]