🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. الملائكة نزلت لقراءة القرآن
قرآن کے فضائل — قرآن کی تلاوت کے وقت فرشتوں کا نازل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2058
أخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عفّان بن مسلم وموسى بن إسماعيل، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البُنَاني، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أُسَيد بن حُضَير، أنه قال: بينا أنا أقرأُ ليلةً سورةَ البقرة، فلما انتهيتُ إلى آخرها سمعتُ وَجْبةً مِن خَلْفي، فظننتُ أنَّ فرسي تَطَلَّق، فقال: اقرأْ أبا عَتِيك، فالتفتُّ، فإذا أمثالُ المصابيح مدلّاةٌ بين السماء والأرض، فقال: يا رسول الله، والله ما استطعتُ أن أمضِيَ، قال: فقال:"تلكَ الملائكةُ نزلتْ لِقراءة القرآنِ، أمَا إنك لو مَضَيتَ لرأيتَ العَجائب" (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک مرتبہ رات کے وقت سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا، جب میں سورۃ کے آخر تک پہنچا تو اپنے پیچھے کسی چیز کی آواز سنی تو میں یہ سمجھا کہ شاید میرا گھوڑا کھل گیا ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: اے ابوعتیک تمہیں تلاوت جاری رکھنی چاہیے تھی، تو میں نے دیکھا کہ زمین اور آسمان کے درمیان شمعیں لٹک رہی تھیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تلاوت کو جاری رکھنے کی میری ہمت نہ تھی (اسید) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے قرآن پاک کی قرأت سننے کے لیے نازل ہوئے تھے اگر تو تلاوت جاری رکھتا تو مزید عجائبات دیکھتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2058]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2058 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عبد الرحمن بن أبي ليلى لم يَلحق أُسيد بن حضير فيسمعَ منه، كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" في ترجمة أُسيد 1/ 341. ¤ ¤ وأخرجه ابن حبان (779) من طريق هدبة بن خالد، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں، لیکن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی اسید بن حضیر سے ملاقات ثابت نہیں، جیسا کہ امام ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" میں صراحت کی ہے۔ 📖 حوالہ: ابن حبان نے بھی اسے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وتابع ثابتًا البُنانيَّ عليه قتادة بن دعامة، أخرجه من طريقه إسحاق بن راهويه كما في "المطالب العالية" (3546)، ومحمد بن نصر المروَزي في "قيام الليل - مختصره" ص 141، والفريابي في "فضائل القرآن" (28)، والطبراني في "الكبير" (567)، وفي "الأوسط" (8117)، وأبو طاهر المخلِّص في "المخلِّصيات" (285)، وأبو نعيم في "حلية الأولياء" 9/ 237.
🧩 متابعات و شواہد: ثابت بنانی کی تائید قتادہ بن دعامہ نے کی ہے، ان کے طریق سے اسے اسحاق بن راہویہ، مروزی، فاریابی، طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔
وقوله: تَطَلَّق، يجوز أن يكون بضم القاف، فعلًا مضارعًا حذفت إحدى تائيه تخفيفًا، ويجوز أن يكون بفتح القاف، فعلًا ماضيًا، والمعنى أنَّ الفرس مَضَتْ تعدو لا تَلْوي على شيء، والفَرس يذكَّر ويؤنَّث. ويجوز أن يكون من: طَلَق يَطلُق، من باب قعد: إذا انحلَّ وثاق الفرس.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "تطلّق" (فعل ماضی یا مضارع) کا مطلب ہے کہ گھوڑا کسی چیز کی طرف مڑے بغیر تیزی سے دوڑنے لگا۔ یہ لفظ گھوڑے کے بندھن کھل جانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔