علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. شفاء المجنون بقراءة فاتحة الكتاب عليه ثلاثة أيام
تین دن سورۂ فاتحہ پڑھ کر مجنون کا شفا پانا۔
حدیث نمبر: 2078
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا زكريا بن أبي زائدة. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بشر بن موسى الأسدي، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن الشعبي، عن خارجة بن الصَّلْت التميمي، عن عمه: أنه مرَّ بقوم وعندهم مجنون مُوثَقٌ في الحديد، فقال له بعضهم: أعندك شيء يُداوَى به هذا؟ فإنَّ صاحبكم قد جاء بخير، قال: فقرأت عليه فاتحة الكتاب ثلاثةَ أيام في كلِّ يوم مرتين، فبَرأ، فأعطاه مئةَ شاةٍ، فأتى النبيَّ ﷺ، فذكر ذلك له، فقال:"كُلْ، فمَن أكل برُقْيةِ باطلٍ، فقد أكلتَ برُقْيَةِ حَقٍّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک قوم پر ہوا جن کے پاس ایک دیوانہ شخص تھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، ان میں سے کسی نے ان سے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس سے اس کا علاج کیا جا سکے؟ کیونکہ آپ کے ساتھی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) تو خیر لے کر آئے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے اس پر تین دن تک ہر روز دو مرتبہ فاتحہ الکتاب پڑھی، تو وہ ٹھیک ہو گیا، اس شخص نے انہیں سو بکریاں دیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، کیونکہ جس نے باطل دم کے ذریعے کھایا (وہ گناہ گار ہے) لیکن تم نے تو حق دم کے ذریعے کھایا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2078]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل خارجة بن الصلت، فقد روى عنه غير واحد، وذكره ابن حبان وابن خلفون في "الثقات"، وقال الذهبي: محله الصدق؛ وهو كما قال أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، والشعبي: هو عامر بن شَراحيل.»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2078 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل خارجة بن الصلت، فقد روى عنه غير واحد، وذكره ابن حبان وابن خلفون في "الثقات"، وقال الذهبي: محله الصدق؛ وهو كما قال أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، والشعبي: هو عامر بن شَراحيل.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: خارجہ بن الصلت کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔ امام ذہبی کے مطابق وہ سچے راوی ہیں۔ ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین اور شعبی سے عامر بن شراحیل مراد ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (21835)، وأبو داود (3896)، وابن حبان في "صحيحه" (6111) من طريقين عن زكريا بن أبي زائدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد، ابو داؤد اور ابن حبان نے زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21836)، وأبو داود (3420) و (3897) و (3901)، والنسائي (7492) و (10804) من طريق عبد الله بن أبي السفر، عن الشعبي، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد، ابو داؤد اور نسائی نے عبداللہ بن ابی السفر عن الشعبی کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2078 in Urdu